آخری اتمام حُجّت — Page 41
الحدیث امرت سر کرتی تو وہ اکر ایک میں خدا کیوں کسی مجرم کے سن کے جاؤ اچھے سے کرنے میں تشہیر کے لئے میدانوں میں جمع ہونے کی ضرورت ہی نہیں رہی فی الواقعہ یہ ایک قسم کی شوخی انگلستانی ہے کہ ہم قرآن کریم کی اور این منانے کی تازہ شمال اسوقت قایم ہی ہو چکی ہے اور وہ یہ آیت مباہر کے مقابل تشریحات کے طالب ہوں البتہ ہم ایمان فر ہے کہ ڈوٹی کے ساتھ رجو امریکہ کے ملک میں تنہا اور مدعی نبوت تھا ، ہیں کہ اگر مولوی کاء اللہ نے کوئی حیلہ جوئی کر کے اس مباہلہ کو اپنی حضرت اقدس کا میا بلہ ہوا تہا جس کے بعد اول تو وہ ولد الدرنا ثابت ہوا سے نہ ٹال یا تو پھراللہ تعالی بالضرور مولوی مذکور کے متعلق جس کا اقرار اس لئے خود ہی کیا اور پھر اس کے مریدوں تھے اُسکو کوئی ایسا ہی نشان ظاہر کر نیامو مصدق و کذب کی پوری تیز کریگا۔تمام جائداد سے بے دخل کر دیا اور بالاخر فالج میں مبتلا ہو کرفت آخر در خواست کنندگان آپ نے تو اپنے لئے یہ عذاب چاہا تھا کہ ان د خراب حالت میں مرگیا۔وہ امریکہ میں تھا اور حضرت اقد مر قادیاں پر پتھر آسمان سے برسائے جاویں۔خدا تعالٰی نے ان پر مذاب تو ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ سب زمین خدا کی ہے اور سب لوگ نازل کر کے انہیں ہلاک کر دیا لیکن پتھر پر جانے کی ضرورت نہ سمجھی اُس کے دست تصرف کے بھی ہیں خواہ کوئی امریکہ میںہو یا ایشیا ایں دیگر شده انفال روح و واد قَالُوا اللَّهُمَّانِ كَانَ هَذَا هُوَ آمریت اس میں ہو یا قادیاں ہیں۔اینڈ ہے کہ انا ان کے بعد مولوی اشنا راشد کوئی نیا صدر نہ گھریں گی در اصل مولوی انشاء اللہ میں صحت میں ہماری کا اور حقیقت الوحی کے ملو اور اس کے تمام و کمال پڑھنے کے بعد فوراً ایران رکہتا ہے تو ا یسے تو مناسب ہو کہ جو شرط ہم کر یں وہ قبول کرتی ہوں مباہلہ کا اشتہار شائع کر دیں گے۔دیوانے دیتی ہو یا ہر حسین منظور کرتی اور ہم کو کسی گریز دی ہم خود کا موقع نہ دے اور وہ منظور کر کے ہم کو مولوی صا حب کو یہی یا در ہے کہ ہم کو قرآن کریم نے فتنہ سنے بھٹو کی اطلاع دے کہ ہم ہر وقت بازی کتاب حقیقت الوحی کا ایک نسخہ تاکید کی ہے۔امرت سر یا بارہ میں مباہلہ کے لیے جمع ہونا ایک قسم کے اسکو بغرض میباره بیجوں اور ساتھ ہی کہدے کہ کتاب کے پہونچتے فتہ کو بر پا کرتا ہے۔کیا سنلا ء میں حضرت اقدس کا ایام رمضان پر وہ اس کو اول سے آخر تک بغور پڑ ہے اور پھر وہ اشتہار بہار میں مین امر که آنا مولوی ثنا اللہ کو یاد نہیں رہا اور جو درندگی اسوقت اعلان کر دی کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے کتاب حقیقۃ الوحی کو شروع مولوی ثناء اللہ کے اہل وطن سے ظاہر ہوئی تھی اس کو کیوں گئے : سے آخر تک پڑھ لیا اور میں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد بھی مرزا ہیں کیا مولوی ثناء اللہ حفظ امن کا امرت سر یا بٹالہ میں ذمہ خان فلام احمد کو مفتری اور قریبی سمجھتا ہوں اور اس کے تمام الہامات ہو سکتا ہے۔مولوی نے کور کی جو ذاتی وجاہت ہے اس سے توہم اور پیشگوئیوں کو اتر آتا ہوں اور اگرمیں ایسا کہنے میں جھوٹا ہوں۔تو خوب واقف ہیں لیکن ایسے مباہلہ میں تو انکی وجاہت بہی خان کیسی لعنت اللہ علی الکاذبین کی بریت کے تحت اللہ تعالی مجبو لاور اللہ اہی ہو جہاں کا مقابلہ پیرسینگی۔مولوی ثناء اللہ خوب جانتا ہے کہ ی بارہ سے گریز کرنے کے اب مولوی شمار آمد کو اس خود تجویز کرده حضرت اقدس کا سفر میں روزہ کو چھوڑنا اس میں تعلیم قرآن کی تشریح کی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔ار کرنا بٹالہ تھی لیکن مولوی ثناءاللہ کو یاد ہو گا کہ مولوی مذکور نے اس پتھر میں مبیع کرنے کی جو تجویز انہوں نے مراد حصول شہرت پیش کی کہ اس ہو برسانے کے فعل کو عمدہ ظاہر کر کے اپنی فطرت کا اظہار دیا۔کیا اس پڑھ کر میں طرح ان کی شہرت ہو جاو گی کیونکہ اشتہار کے اندر جو مباہلہ شہرمیں اسے باہر تجویز ہونا مناسب کے موادی صاحب اگر آپ کی ہو گا وہ تمام دنیا ں شائع ہو جائیگا اور ہماری انگریزی رسانه دیوالی کے امرت سوریا بٹالہ کو تجویز کرنے میں گریز کی بنیاد پہلے ہی نہیں رکھی ذریعہ سے یورپ امریکہ اور جاپان تک بھی مولوی ثناءاللہ صاحب کا دہلی میں مرزا صاحب کی چاہتی ہیوی کے ہم وطنوں سے کیا ظا ہر ہوا تھا؟ نام پہونچ جا دیگا۔اس زبان میں سیب مطیع اور ڈاک کے ایسے ائر کانٹے تو ہر جگہ کانٹے ہی کا پہل دیئے۔دہلحدیث : ۴۱ چھے چند دل - اریوں بسائیں اور سلمانوں کی بہادروں کا معافی قیت و ہدایت الز و جنین - بیوی خاوند کے حقوق کا بیان قیمت ار مینجر اہلحدیث امرت سر