آخری اتمام حُجّت

by Other Authors

Page 23 of 46

آخری اتمام حُجّت — Page 23

را پریل شاہ کو ہوا تھا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے عکس سے بھی ہم جمعیت اہل حدیث خانو وانہ ضلع لائل پور کے جواب میں واضح کر چکے ہیں اور ان کی مغالطہ انگیزی کی قلعی کھول چکے ہیں لہذا محمدیہ پاکٹ بک کے منصف کی کوشش یہ تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ والے ۱۵ را پریل شاید کے مضمون کو جو دراصل دعاء مباہلہ پشتمل تھا مگر جسے یہ لوگ یکطرفہ دعا قرار دے رہے ہیں) ۴۷ را پریل شاشه سے پہلے کا لکھا ہوا قرار دے کر یہ مغالطہ دے کہ اس اشتہار میں مندرجہ دعا کے لکھا جانے کے بعد یہ الہام اس کی قبولیت ظاہر کرنے کے لیے گھڑا گیا تھا :- چنانچہ محمدیہ پاکٹ بک میں لکھا ہے کہ :- اشتهار آخری فیصلہ ۱۵ را پریل شاہ کو شائع ہوا جو یقینا" اس سے پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ہما کا سمجھو تو ۱۱ ۱۲ ۱۳ و۔و ۱۱ ۱۲ ۱۳ وغیرہ کا سمجھو تو بہر حال پہلے کا ہے اور ایک ایک کے مالی دارای نام دارد - و حمدیہ پاکٹ بک بھی دیا گیا ہے یہ عبارت مصنف محمدیہ پاکٹ بک کی صریح غلط بیانی اور مغالطہ انگریزی پرمشتمل ہے۔مصنف مذکور کی دھند کا دہی کو آشکار کرنے کے لیے میں آگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار ۱۵ را پریل شاہ کے مضمون کی تحریر کا عکس درج کر رہا ہوں جس کے آخری صفحہ کے آخری الفاظ میں ۱۵ ر ا پریل شاہ کی تاریخ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے قلم مبارک سے لکھا جانا ظاہر ہے میلو انا اللہ اب بھی اپنے بات میں بھی دھوکا دیتے رہے ہیں۔بس العام اُجیب دعوة الداع کا تعلق جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریروں سے ہے جو ۱۴ اپریل عشاء سے پہلے آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب سے مباہلہ کے متعلق تحریر فرمائی ہوئی تھیں۔جیسا کہ اخبار بدر ۲۵ را پریل شاہ کی ۴ ار ا پریل شاہ والی ڈائری کے سیاق مضمون سے ظاہر ہے۔اس سیاق میں اس الہام کا اندراج یہ ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ اس الہام کا تعلق مباہلہ کی دعا سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مباہلہ وقوع میں آ جائے تو خدا تعالیٰ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے۔اگر اشتہار دار اپریل شاہ کو مولوی ثناء اللہ صاحب مان لیتے تو یقیناً مباہلہ وقوع میں آجانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بددعا مولوی ثناء اللہ کے حق میں قبول ہوتی مگر انہوں نے اس کی منظوری نہ دی۔جس سے مباہلہ وقوع میں نہ آ سکا۔موادی ثنا اللہ صاحب نے اس دعا کونہ احمدیوں کیلئے بیت قرار دیا ہے نو د ستر مسلمانو کیلئے۔میں آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۱۵ اپریل شاہ والے اشتہار کا عکس درج کر رہا ہوں جس کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ دستخط کے بعد حضرت مسیح موعود نے اس مضمون پر دار پر بیل عنہ کی تا ریخ درج فرمائی ہے پیس میمضمون را پریل شاید یا اس سے پہلے کا نہیں ہے اس کے بعد میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے جواب کا عکس بھی درج کر رہا ہوں نا میرے اس مقالہ کے پڑھنے والوں کو میری تحقیق کی صداقت کا پورا یقین ہوسکے۔دما علینا ال البلاغ، وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين نے محمدیہ پاکٹ بک کے مصنف کا یہ کہنا یا کہنا بالکل غلط ہے کیونکہ یہ اشتہار ۱۸ رامی داشت شراء کو انار مادری شاعر بعد ، مولفه "