عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 98
عائلی مسائل اور ان کا حل اپنے حق لینے کے لئے غلط بیانی سے کام لیتے ہیں یا یہ کہنا چاہئے کہ ناجائز حق مانگتے ہیں“۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بعض ماں باپ بچوں کو دوسرے ملک میں لے گئے یا انہیں چھپالیا یا کورٹ سے غلط بیان دے کر یا دلوا کر بچے چھین لئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ والدہ کو اس کے بچے کی وجہ سے دکھ نہ دیا جائے، اور نہ والد کو اس کے بچے کی وجہ سے دکھ دیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم تقویٰ سے کام نہیں لو گے اور ایک دوسرے کے حق ادا نہیں کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز جانتا ہے۔وہ جانتا بھی ہے اور دیکھ بھی رہا ہے اور اللہ پھر ظالموں کو یوں نہیں چھوڑا کرتا۔پس اللہ سے ڈرو، ہر وقت یہ پیش نظر رہے کہ جس طرح آپ پر آپ کی ماں کا حق ہے اسی طرح آپ کے بچوں پر ان کی ماں کا بھی حق ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اور جائزہ میں بھی سامنے آیا عموماً باپوں کی طرف سے یہ ظلم زیادہ ہوتے ہیں۔اس لئے میں مردوں کو توجہ دلا رہا ہوں کہ اپنی بیویوں کا خیال رکھیں۔ان کے حقوق دیں۔اگر آپ نیکی اور تقویٰ پر قدم مارنے والے ہیں تو الاماشاء اللہ عموماً پھر بیویاں آپ کے تابع فرمان رہیں گی۔آپ کے گھر ٹوٹنے والے گھروں کی بجائے، بننے والے گھر ہوں گے جو ماحول کو بھی اپنے خوبصورت نظارے دکھا رہے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک صحابی کو نصیحت کا ایک خط لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : باعث تکلیف دہی ہے کہ میں نے بعض آپ 98