عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 97
عائلی مسائل اور ان کا حل مردوں کی مدد کر رہے ہوتے ہیں اور کہیں سے بھی تقویٰ سے کام نہیں لیا جا رہا ہو تا۔تو یہ الزام تراشیاں اور بچوں کے بیان اور بچوں کے سامنے ماں کے متعلق باتیں، جو انتہائی نامناسب ہوتی ہیں، بچوں کے اخلاق بھی تباہ کر رہی ہوتی ہیں۔ایسے مرد اپنی اناؤں کی خاطر بچوں کو آگ میں دھکیل رہے ہوتے ہیں اور بعض مردوں کی دینی غیرت بھی اس طرح مر جاتی ہے کہ ان غلط حرکتوں کی وجہ سے اگر ان کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور اخراج از نظام جماعت ہو گیا تو تب بھی ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی، اپنی انا کی خاطر دین چھوڑ بیٹھتے ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اصل کام ظلم کو ختم کرنا ہے اور انصاف قائم کرنا ہے اور خلافت کے فرائض میں سے انصاف کرنا اور انصاف کو قائم کرنا ایک بہت بڑا فرض ہے۔اس لئے جماعتی عہدیدار بھی اس ذمہ داری کو سمجھیں کہ وہ جس نظام جماعت کے لئے کام کر رہے ہیں وہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں کام کر رہا ہے۔اس لئے انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ان کا اولین فرض ہے۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر ہر ایک کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہئے۔فیصلے کرتے وقت، خلیفہ وقت کو سفارش کرتے وقت ہر قسم کے تعلق سے بالا ہو کر سفارش کیا کریں۔اگر کسی کی حرکت پر فوری غصہ آئے تو پھر دو دن ٹھہر کر سفارش کرنی چاہئے تا کہ کسی بھی قسم کی جانبدارانہ رائے نہ ہو اور فریقین بھی یاد رکھیں کہ بعض اوقات 97