عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 87

عائلی مسائل اور ان کا حل لاھلِہ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو۔کیونکہ نہایت بد ، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے بر تن کی طرح جلد مت توڑو۔(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 75 حاشیہ ) تو دیکھیں کہ اس زمانے میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے حقوق ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : اصل میں تو مرد کو ایک طرح سے عورت کا نوکر بنا دیا ہے۔آج پڑھی لکھی دنیا کا کوئی قانون بھی اس طرح عورت کو حق نہیں دلواتا“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 31 / جولائی 2004ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24/ اپریل 2015ء) جوائنٹ فیملی سسٹم: مشتر کہ خاندانی نظام مشترکہ خاندانی نظام کی خوبیوں اور خامیوں کا بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو یہ نصیحت فرمائی: دو پھر ایک بیماری جس کی وجہ سے گھر برباد ہوتے ہیں، گھروں میں ہر وقت لڑائیاں اور بے سکونی کی کیفیت رہتی ہے وہ شادی کے بعد بھی لڑکوں کا توفیق ہوتے ہوئے اور کسی جائز وجہ کے بغیر بھی ماں باپ، بہن بھائیوں کے ساتھ اسی گھر میں رہنا ہے۔اگر ماں باپ بوڑھے ہیں، کوئی خدمت کرنے والا نہیں ہے، خود چل پھر کر کام نہیں کر سکتے اور کوئی مددگار نہیں تو پھر اس 87