عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 86
عائلی مسائل اور ان کا حل ہے وہ تنبیہ کی اجازت ہے۔مارنے کی تو سوائے خاص معاملات کے اجازت ہے ہی نہیں اور وہاں بھی صرف دین کے معاملات میں اور اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے معاملات میں اجازت ہے۔لیکن جو مرد خود نماز نہیں پڑھتا، خود دین کے احکامات کی پابندی نہیں کر رہا وہ عورت کو کچھ کہنے کا کیا حق رکھتا ہے؟ تو مردوں کو شرائط کے ساتھ جو بعض اجازتیں ملی ہیں وہ عورت کے حقوق قائم کرنے کے لئے ہیں۔( شاید عورتوں کو یہ خیال ہو کہ یہ باتیں تو مر دوں کو بتانی چاہئیں۔فکر نہ کریں ساتھ کی مار کی میں مر دسن رہے ہیں بلکہ ساری دنیا میں سن رہے ہیں آپ کے حقوق کی حفاظت کے لئے۔) ایک صحابی کے اپنی بیوی کے ساتھ سختی سے پیش آنے اور ان سے حسن سلوک نہ کرنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بیویوں سے حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا کہ: یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبد الکریم کو میر محمد ولد یه روانی خودان بلد نیر اصلی (17) آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔وہ ان کی کنیزیں نہیں ہیں۔در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہر و۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:20) یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔اور حدیث میں ہے: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ 98 86