عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 45

عائلی مسائل اور ان کا حل دوسروں کو پو چھنی چاہئیں اور سننی چاہئیں۔اگر اس نصیحت پر عمل کرنے والے ہوں تو بہت سارے جھگڑے میرے خیال میں خود بخود ختم ہو جائیں“۔(خطبہ جمعہ 15 جولائی 2005 ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 05 اگست 2005ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایک اور موقع پر فرماتے ہیں: ”اگر ان عائلی جھگڑوں میں، میاں بیوی کے جھگڑوں میں علیحدگی تک بھی نوبت آگئی ہے تو ابھی سے دعا کرتے ہوئے، اس نیک ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دعاؤں پر زور دیتے ہوئے، ان پھٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں اور اسی طرح بعض اور وجوہ کی وجہ سے معاشرے میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔جھوٹی اناؤں کی وجہ سے جو نفرتیں معاشرے میں پنپ رہی ہیں یا پیدا ہو رہی ہیں ان کو دور کریں۔ایک دوسرے کی غلطیوں اور زیادتیوں اور کوتاہیوں سے پردہ پوشی کو اختیار کریں۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ان کی برائیاں مشہور کرنے کی بجائے پردہ پوشی کا راستہ اختیار کریں۔ہر ایک کو اپنی برائیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔اللہ کا خوف کرنا چاہئے“۔(خطبہ جمعہ 24 جون 2005ء بمقام انٹر نیشنل سینٹر۔ٹورانٹو، کینیڈا۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 08 جولائی 2005ء) 45