عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 44

عائلی مسائل اور ان کا حل دلائی ہے“۔(جلسه سالانه جر منی خطاب مستورات فرمودہ 21 اگست 2004 ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل یکم مئی 2015ء) سیرت نبوی ام کے حوالے سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: آپ ا نے جہاں امانت و دیانت کے یہ اعلیٰ نمونے دکھائے وہاں اُمت کو بھی نصیحت کی کہ اس کی مثالیں قائم کرو اور پھر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی اس کا خیال رکھو۔مثلاً میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔اس میں بھی آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی کہ یہ تعلقات امانت ہوتے ہیں ان کا خیال رکھو۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله لم نے فرمایا کہ : قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ شمار ہو گی کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کرے۔پھر وہ بیوی کے پوشیدہ راز لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الادب باب في نقل الحديث) آج کل کے معاشرے میں میاں بیوی کی آپس کی باتیں جو اُن کی ہوتی ہیں وہ لوگ اپنے ماں باپ کو بتا دیتے ہیں اور پھر اس سے بعض دفعہ بد مزگیاں پیدا ہوتی ہیں۔لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ماں باپ کو خود عادت ہوتی ہے کہ بچوں سے کرید کرید کے باتیں پوچھتے ہیں۔پھر یہی جھگڑوں کا باعث بنتی ہیں۔اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا: میاں بیوی کی یہ باتیں کسی بھی قسم کی باتیں ہوں نہ ان کا حق بنتا ہے کہ دوسروں کو بتائیں اور نہ 44