عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 42
عائلی مسائل اور ان کا حل رہے ہوتے ہیں کہ عورت کا لباس ڈھکا ہوا نہ ہو۔اور عورت جو ہے، اکثر جگہ عورت بھی یہی چاہتی ہے۔وہ عورت جسے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا، اس کے پاس لباس تقویٰ نہیں ہے۔اور ایسے مرد بھی یہی چاہتے ہیں۔ایک طبقہ جو ہے مردوں کا وہ یہ چاہتا ہے کہ عورت جدید لباس سے آراستہ ہو بلکہ اپنی بیویوں کے لئے بھی وہی پسند کرتے ہیں تاکہ سوسائٹی میں ان کو اعلیٰ اور فیشن ایبل سمجھا جائے۔چاہے اس لباس سے ننگ ڈھک رہا ہو یانہ ڈھک رہا ہو۔لیکن ایک مومن اور وہ جسے اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔چاہے مرد ہو یا عورت وہ یہی چاہیں گے کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے وہ لباس پہنیں جو خدا کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی بنے اور وہ لباس اس وقت ہو گا جب تقویٰ کے لباس کی تلاش ہو گی۔جب ایک خاص احتیاط کے ساتھ اپنے ظاہری لباسوں کا بھی خیال رکھا جا رہا ہو گا اور جب تقویٰ کے ساتھ میاں بیوی کا جو ایک دوسرے کا لباس ہیں اس کا بھی خیال رکھا جائے گا اور اسی طرح معاشرے میں ایک دوسرے کی عیب پوشی کرنے کے لئے آپس کے تعلقات میں بھی کسی اونچ پہنچ کی صورت میں تقویٰ کو مد نظر رکھا جائے گا“۔( 3 اپریل 2009 خطبہ جمعہ مسجد بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24 اپریل 2009ء) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مذکورہ بالا مضمون کو قرآنی تعلیمات کے حوالے سے ذیل میں یوں بیان فرمایا: هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ - (البقرة: 188) 42