عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 40
عائلی مسائل اور ان کا حل ہے۔تو یہ برداشت جو ہے اسے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ تو ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ابتداء میں ہی گھر ٹوٹنے شروع ہو جاتے ہیں۔چند دن شادی کو ہوئے ہوتے ہیں اور فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے دل نہیں مل سکتے۔حالانکہ رشتے کئی کئی سال سے قائم ہوتے ہیں اس کے بعد شادی ہوئی ہوتی ہے اور پھر اصل بات یہ ہے کہ یہ جب ایک دوسرے کے راز نہیں رکھتے، باتیں جب باہر نکالی جاتی ہیں تو باہر کے لوگ بھی جو ہیں مشورہ دینے والے بھی جو ہیں وہ اپنے مزے لینے کے لئے یا ان کو عاد تا غلط مشورے دینے کی عادت ہوتی ہے وہ پھر ایسے مشورے دیتے ہیں کہ جن سے گھر ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے مشورہ بھی ایک امانت ہے۔جب ایسے لوگ ، ایسے جوڑے، مرد ہوں یا عورت، لڑکا ہو یا لڑکی، کسی کے پاس آئیں تو ایک احمدی کا فرض ہے کہ ان کو ایسے مشورے دیں جن سے ان کے گھر جڑیں، نہ کہ ٹوٹیں“۔(3) اپریل 2009 خطبہ جمعہ مسجد بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 24 اپریل 2009ء) غصہ پر قابو وو عائلی مسائل کو پیدا ہونے سے روکنے کیلئے فریقین کا اپنے غصہ پر قابو پانا نہایت ضروری ہے۔اس ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پس مرد اور عورت کو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ پردہ پوشی بھی اس وقت ہوتی ہے جب غصہ پر قابو ہو اور یہ اس وقت ہو گا جب خدا تعالیٰ کا خوف ہو گا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ لباس تقوی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے 40