عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 37
عائلی مسائل اور ان کا حل لئے بیوی کے منہ میں لقمہ اگر ڈالتا ہے تو اس کا بھی ثواب ہے۔اب اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ صرف لقمہ ڈالنا بلکہ بیوی بچوں کی پرورش ہے، ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ایک مرد کا فرض ہے کہ اپنے گھر کی ذمہ داری اٹھائے۔لیکن اگر یہی فرض وہ اس نیت سے ادا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے اور خدا کی خاطر میں نے اپنی بیوی ، جو اپنا گھر چھوڑ کے میرے گھر آئی ہے، اس کا حق ادا کرنا ہے، اپنے بچوں کا حق ادا کرنا ہے تو وہ ہی فرض ثواب بھی بن جاتا ہے۔یہ بھی عبادت ہے۔اگر یہ خیالات ہوں ہر احمدی کے تو آج کل کے جو عائلی جھگڑے ہیں، تو تکار اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگیاں ہیں ان سے بھی انسان بچ جاتا ہے۔بیوی اپنی ذمہ داریاں سمجھے گی کہ میرے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ میں خاوند کی خدمت کروں، اس کا حق ادا کروں اور اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میں یہ کر رہی ہوں گی تو اس کا ثواب ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں کو یہ بتایا کہ اگر تم اس طرح کرو تو تمہارا یہ فعل بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کی وجہ سے عبادت بن جائے گا۔اس کا ثواب ملے گا۔تو یہ چیزیں ہیں جو انسان کو سوچنی چاہئیں اور یہی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بعض گھروں کو جنت نظیر بنا دیتی ہیں“۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مارچ 2009ء بمقام بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 3 اپریل 2009ء) عورت اور مرد ایک دوسرے کا لباس ہیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشادِ خداوندی کہ میاں بیوی ایک دوسرے 37