عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 232

عائلی مسائل اور ان کا حل سی ایسی باتیں ہیں جن سے ہمیں روکا گیا ہے، جو برائیاں ہیں۔اور کون کون سی ایسی باتیں ہیں جنہیں کرنے کا ہمیں کہا گیا ہے جو نیکیاں ہیں اور اچھائیاں ہیں۔صرف ان آیات میں تقویٰ کی تلقین نہیں کی گئی بلکہ قرآن کریم میں بیشمار جگہ پر اس کی تلقین فرمائی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے۔اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے۔ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطرناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں۔اور اپنی جلد بازیوں اور بد گمانیوں سے قوم میں تفرقہ ڈالتے اور مخالفین کو اعتراض کا موقعہ دیتے ہیں“۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 342) پھر آپ فرماتے ہیں: ”انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقوی کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط و خال ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی 232