عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 231

عائلی مسائل اور ان کا حل بھی چیز نہیں ہے۔اگر ایک مومن اور مومنہ یہ سمجھتی ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے، یہ سمجھتا ہے کہ جو عہد میں دہر ا رہا ہوں وہ اس لئے ہے کہ یہ میرے دل کی آواز بن جائے اور اس پر عمل کرنے والا بنوں تو اُس کی بنیاد تقویٰ ہے۔اس کے بغیر نہ عہد پورے ہو سکتے ہیں، نہ ایک مومن اور مومنہ اپنے ایمان کی حالت کو قائم رکھنے والا بن سکتا ہے۔اگر یہ قائم ہو جائے تو پھر دین بھی مل جائے گا اور دنیا بھی مل جائے گی۔ایک انسان عورت ہو یا مر دجب ایمان کا دعویٰ کرتا ہے، مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو یقینا اُس کی یہ خواہش ہوتی ہے اور سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کہ وہ خدا کو پالے تا کہ اُس کا دین سنور جائے اور اُس کی دنیا بھی سنور جائے۔پس اگر خدا کو پانا ہے، اُس کی رضا کو حاصل کرنا ہے تو پھر تقویٰ پر چلنا انتہائی ضروری ہے اور تقویٰ یہی ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی برائی کو بھی بیزار ہو کر ترک کرنا، ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہوئے اختیار کرنا۔اور برائیوں کی تعریف یا نیکیوں کی تعریف خود انسان نے نہیں کرنی بلکہ تقویٰ یہ ہے کہ پھر اُس کو اللہ تعالیٰ کے احکامات میں تلاش کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور سنت میں تلاش کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کو اس زمانے کے لئے امام بنا کر بھیجا گیا تا کہ اسلام کی حقیقی تعلیم لوگوں پر واضح کریں اُن کے ارشادات کو پڑھو اور نوٹ کرو اور اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرو کہ اُن میں سے کون کون 231