عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 164
عائلی مسائل اور ان کا حل ساتھ دی ہے۔ہر ایک کو کھلی چھٹی نہیں ہے کہ وہ شادی کرتا پھرے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ تم تقویٰ پر قائم ہو اپنا جائزہ لو کہ جس وجہ سے تم شادی کر رہے ہو وہ جائز ضرورت بھی ہے۔پھر یہ بھی دیکھو کہ تم شادی کر کے بیویوں کے درمیان انصاف کر سکو گے کہ نہیں اور اگر نہیں تو پھر تمہیں شادی کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔اگر تم پہلی بیوی کی ذمہ داریاں اور حقوق ادا نہیں کر سکتے اور دوسری شادی کی فکر میں ہو تو پھر تمہیں دوسری شادی کا کوئی حق نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک کرنی چاہئے کہ اگر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو۔لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری بیوی کے کرنے سے اس کی پہلی بیوی کو سخت صدمہ ہوتا ہے اور حد درجہ کی اس کی دل شکنی ہوتی ہے تو اگر وہ صبر کر سکے اور کسی معصیت میں مبتلا نہ ہوتا ہو۔یعنی کسی گناہ میں مبتلا نہ ہو اور نہ کسی شرعی ضرورت کا اس سے خون ہو تا ہو تو ایسی صورت میں اگر ان اپنی ضرورتوں کی قربانی سابقہ بیوی کی دلداری کے لئے کر دے اور ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے مناسب ہے کہ دوسری شادی نہ کرے“۔(ملفوظات جلد ہفتم صفحہ 64-65 مطبوعہ لندن) تو فرمایا کہ: ”یہ شادیاں صرف شادیوں کے شوق میں نہ کرو۔بعض مردوں کو شوق ہوتا ہے ان لوگوں کو بھی جواب دے دیا جو کہتے ہیں کہ اسلام ہمیں چار شادیوں 164