عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 148

عائلی مسائل اور ان کا حل سے جب کبھی رستے سے اکھڑ جاتے ہیں ایسی صورت میں جب لڑائی ہو رہی ہو تو تکار ہو رہی ہو تو وہ پھر ایسے خاوند بھی ہیں کہ بیویوں پر ظلم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یا خاوند اپنی بیویوں کے ان مطالبات کو ماننے کی وجہ سے، انہیں پورا کرنے کے لئے ، قرض لینا شروع کر دیتے ہیں اور پھر سارا گھر ایک وبال میں گرفتار ہو جاتا ہے۔خاوند سے قرض خواہ جب قرض کا مطالبہ کرتے ہیں وہ ان سے ٹال مٹول کر رہا ہوتا ہے۔پھر ایک اور جھوٹ شروع ہو جاتا ہے اور جب وہ ادا نہیں کرتا تو پھر خاوند کی چڑ چڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے۔پھر بچوں پر سختیاں شروع ہو جاتی ہیں۔بچے ڈسٹرب ہو رہے ہوتے ہیں۔تو ایک شیطانی چکر ہے جو بعض ناجائز مطالبات کی وجہ سے، صبر کا دامن چھوڑنے کی وجہ سے چل جاتا ہے اور پھر یہ ہوتا ہے کہ بچے ایک عمر کے بعد ایسے گھروں میں، گھر سے باہر سکون کی تلاش کرتے ہیں اور پھر ماں باپ کی تربیت سے بھی جاتے ہیں۔پھر برائیاں پیدا ہونی شروع ہوتی ہیں اور جب ماں باپ کو ہوش آتی ہے تو اس وقت، وقت گزر چکا ہوتا ہے۔اس لئے فرمایا کہ ایمان کی مضبوطی تبھی قائم ہو گی جب صبر کی عادت بھی ہو گی“۔(جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ خطاب از مستورات فرموده04 ستمبر 2004ء مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 107 جنوری 2005ء) شکر گزاری حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 17 ستمبر 2011ء کو 148