عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 144
عائلی مسائل اور ان کا حل کرے کہ یہ رشتہ جو نیا قائم ہو رہا ہے وہ ہر لحاظ سے بابرکت ہو اور ان روایات کو قائم کرنے والا ہو جو ان دونوں گھروں کی ، خاندانوں کی ہیں۔یعنی دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی“۔(مطبوعہ ہفت روزہ الفضل انٹر نیشنل 29 جون 2012ء) سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے یکم ستمبر 2007ء کو جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر اپنے خطاب میں ایک احمدی مسلمان عورت پر عائد ہونے والی اہم ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عائلی زندگی کے حوالہ سے ارشاد فرمایا: ایک احمدی عورت کی ذمہ داری صرف دنیاوی معاملات میں اپنے گھروں کی یا اپنے بچوں کی نگرانی کرنا اور تعلیم کا خیال رکھنا ہی نہیں ہے بلکہ ایک احمدی عورت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔احمدی عورت نے اسلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اپنے گھر اور خاوند کے گھر کی نگرانی کرنی ہے۔اپنی اولاد کی دنیاوی تعلیم و تربیت کا خیال بھی رکھنا ہے۔اپنی اولاد کی اسلامی اخلاق کے مطابق تربیت بھی کرنی ہے اپنی اولاد کی روحانی تربیت بھی کرنی ہے اور ان تمام تربیتی امور کو اپنی اولاد میں رائج کرنے کے لئے ، ان کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے ، اپنے پاک نمونے قائم کرنے ہیں۔اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ڈھال کر عبادت اور دوسرے اعمالِ صالحہ بجالانے کے نمونے اپنی اولاد کے سامنے رکھنے ہیں۔تبھی ایک احمدی عورت اپنے خاوند کے گھر کی صحیح نگران کہلا سکتی ہے۔تبھی ایک احمدی 144