عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 134

عائلی مسائل اور ان کا حل یہ سچائی ہی ہے جو لڑکے اور لڑکی، خاوند اور بیوی کے تعلقات میں اعتماد کی فضا پیدا کرتی ہے اور یہ اعتماد ہی ہے جو پھر آگے امن کی اور پیار کی ضمانت بن جاتا ہے۔پس نئے قائم ہونے والے رشتے ان باتوں کا خیال رکھیں۔اللہ کرے یہ قائم ہونے والے رشتے ان باتوں کا خیال رکھنے والے ہوں اور کبھی بھی کسی بھی قسم کا جھول، جھوٹ یا سچائی میں کوئی غلط بیانی بھی آپس کے رشتوں میں پیدا نہ ہو اور ہمیشہ اعتماد کی فضا قائم رہے“۔(مطبوعہ ہفت روزہ الفضل انٹر نیشنل 30 دسمبر 2011 ) جھوٹ ، اور جھوٹی گواہی دو احمدی خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کا ایک ٹیسٹ ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، تو بہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہدایت پر قائم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ ٹیسٹ یہ ہے کہ : لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ (الفرقان : 73) جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ گواہی کے متعلق فرماتا ہے کہ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلهِ وَلَوْ عَلَى انْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (النساء:136) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف گواہی دینی پڑے۔134