عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 125
عائلی مسائل اور ان کا حل مذہب کا ہمیشہ ایک احمدی لڑکی کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ میں احمدی ہوں اور اگر میں کہیں باہر رشتہ کرتی ہوں تو میری آنے والی نسل جو ہے اس میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے اور میرے مذہب میں بھی بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ دوسرے گھر میں جاکر ، ایک غیر مذہب میں جا کر ان کے زیر اثر میں آسکتی ہوں“۔(جلسہ سالانہ یو کے خطاب از مستورات فرمودہ 28 جولائی 2007ء۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 13 نومبر 2015ء) پھر ایک اور موقع پر فرمایا: پھر یہ معاملات بھی اب سامنے آنے لگے ہیں کہ شادی ہوئی تو ساتھ ہی نفرتیں شروع ہو گئیں بلکہ شادی کے وقت سے ہی نفرت ہو گئی۔شادی کی کیوں تھی؟ اور بد قسمتی سے یہاں ان ملکوں میں یہ تعداد بہت زیادہ بڑھ رہی ہے، شاید احمدیوں کو بھی دوسروں کا رنگ چڑھ رہا ہے حالانکہ احمدیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے خالص اپنے دین کا رنگ چڑھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی تھی۔پس ہونا تو یہ چاہئے تھا که اگر مرضی کی شادی نہیں ہوئی تب بھی پہلے اکٹھے رہو، ایک دوسرے کو سمجھو، اس نصیحت پر غور کرو جس کے تحت تم نے اپنے نکاح کا عہد و پیمان کیا ہے کہ تقویٰ پر چلنا ہے، پھر سب کچھ کر گزرنے کے بعد بھی اگر نفرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو کوئی انتہائی قدم اٹھاؤ اور اس کے لئے بھی پہلے یہ حکم ہے کہ آپس میں حکمین مقرر کرو،رشتہ دار ڈالو، سوچو، غور کرو۔125