عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 124
عائلی مسائل اور ان کا حل وہ اپنی پسند کے رشتے شروع میں بتا دیں تو کم از کم دو گھروں کی زندگیاں تو برباد نہ ہوں اور پھر ایسے بھی معاملات ہیں جہاں ماں باپ کو پہلے پتہ ہوتا ہے اور اس خیال سے شادی کروا دیتے ہیں کہ بعد میں ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ ہوتا نہیں ہے۔لڑکا ہو یا لڑ کی ، ٹھیک تو نہیں ہوتے البتہ دونوں میں سے کسی ایک کی زندگی برباد ہو جاتی ہے“۔(جلسه سالانه جر منی خطاب از مستورات فرموده 25 جون 2011ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 13 / اپریل 2012ء) اسی حوالہ سے ایک اور موقع پر فرمایا: نہیں پھر لڑکیاں بعض ایسی جگہ شادی کرنا چاہتی ہیں جہاں ماں باپ نہیں چاہتے ، بعض وجوہ کی بنا پر ، مثلاً لڑکا احمدی نہیں ہے ، یادین سے تعلق ہے۔مگر لڑکی بضد ہے کہ میں نے یہیں شادی کرنی ہے۔پھر لڑکے ہیں، بعض ایسی حرکات کے مر تکب ہو جاتے ہیں جو سارے خاندان کی بدنامی کا باعث ہو رہا ہوتا ہے۔تو اس لئے یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے اللہ ہماری اولادوں کی طرف سے ہمیں کسی قسم کے ابتلا کا سامنانہ کرنا پڑے بلکہ ان میں ہمارے لئے برکت رکھ دے اور یہ دعا بچے کی پیدائش سے بلکہ جب سے پیدائش کی امید ہو تب سے شروع کر دینی چاہئے“۔(خطبہ جمعہ 12 دسمبر 2003ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل 06 فروری 2004ء) سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطاب میں احمدی خواتین کو یہ دردمندانه نصیحت فرمائی کہ : 124