عائلی مسائل اور اُن کا حل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 256

عائلی مسائل اور اُن کا حل — Page 120

عائلی مسائل اور ان کا حل چھوڑوں گا یا طلاق دوں گا اور نہ ہی تمہیں بساؤں گا۔اگر قضاء میں یا عدالت میں مقدمات ہیں تو بلاوجہ مقدمہ کو لمبا لٹکایا جاتا ہے۔ایسے حیلے اور بہانے تلاش کئے جاتے ہیں کہ معاملہ لٹکتا چلا جائے۔بعض کو اس لئے طلاق نہیں دی جاتی، پہلے میں کئی دفعہ ذکر کر چکا ہوں، کہ یہ خود خلع لے تاکہ حق مہر سے بچت ہو جائے، حق مہر ادا نہ کرنا پڑے۔تو یہ سب باتیں ایسی ہیں جو تقویٰ سے دور لے جانے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی اصلاح کرو، اگر تم اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے رحم اور بخشش کے طلبگار ہو تو خود بھی رحم کا مظاہرہ کرو اور بیوی کو اس کا حق دے کر گھر میں بساؤ۔اگر اللہ تعالیٰ کے وسیع رحم سے حصہ لینا چاہتے ہو تو اپنے رحم کو بھی وسیع کرو“۔آپ مزید ارشاد فرماتے ہیں: ”میں نے ابھی طلاق کا ذکر کیا تھا کہ بعض مرد طلاق کے معاملات کو لٹکاتے ہیں اور لمبا کرتے چلے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک تو جب شادی ہو جائے کچھ عرصہ مرد اور عورت اکٹھے بھی رہتے ہیں اور اولاد بھی بسا اوقات ہو جاتی ہے۔پھر طلاق کی نوبت آتی ہے۔اس کے حقوق تو واضح ہیں جو دینے ہیں اور مرد کے اوپر فرض ہیں، بچوں کے خرچ بھی ہیں۔حق مہر وغیرہ بھی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض اوقات ایسے حالات پیش آجاتے ہیں جب ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہوتی یا حق مہر مقرر نہیں ہوا ہو تا تب بھی عورت کے حقوق ادا کرو۔سورۃ بقرہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ: 120