تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 9
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمْ (المزمل: ۱۸) منکر و! بتاؤ تو تم کیسے بچو گے عذاب سے اگر تم نے اس رسول کا انکار کیا۔کیا معنی اگر فرعون موسیٰ علیہ السلام کے انکار سے سزایاب ہوا تو تم منکر و ! کیونکر بیچ سکتے ہو۔یہ آیت شریف کتاب استثنا کے ۱۸ باب ۱۸ کی طرف راہنمائی فرماتی ہے۔غرض اسی طرح کی بہت آیات قرآن کریم میں موجود ہیں اور ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے حضور علیہ السلام کو اپنی رسالت، نبوت، راستی اور راستبازی پر پورا اور اعلیٰ درجہ کا یقین تھا اور اولڈ ٹیسٹمنٹ اور نیوٹیسٹمنٹ کے ماننے والا بعد انصاف ہرگز انکار نہیں کر سکتا کیونکہ استثناء ۱۸ باب ۱۸ میں اور اعمال ۳ باب میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی موسیٰ علیہ السلام کی مانند آنے والا ہے اور توریت میں یہ بھی لکھا ہے کہ جھوٹا بنی جو از راہ کذب و افترا اپنے آپ کو موسیٰ علیہ السلام کی مانند کہے مارا جاوے گا۔حضور ( فِدَاهُ أَبِى وَأُمِّي ) نبی عرب نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند رسول ہونے کا دعویٰ فرمایا جیسا گزرا اور آیت شریف وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : ۶۸ ) جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچالے گا پڑھ کر پہرہ اور حفاظت کو بھی دور کر دیا۔مدینہ کے یہود اور عیسائی قوم کو صاف صاف سنادیا کہ میں قتل نہ کیا جاؤں گا اور اللہ کے فضل سے قتل سے بیچ رہے صلی اللہ علیہ وسلم۔عیسائی صاحبان! اگر نبی عرب اس دعوی نبوت میں (اور نبوت کا بھی وہ دعوای میں كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا فرما کر استثنا ۱۵ باب ۱۸ اور اعمال ۳ باب والا دعوی ہے اور بالکل ظاہر ہے کہ نبی عرب قتل نہیں کئے گئے ) کا ذب ہیں (معاذ اللہ ) تو تو ریت کتاب مقدس نہیں بلکہ بالکل غلط اور کذب ہے۔کیونکہ کتاب استثنا کے ۱۸ باب ۱۸ میں لکھا ہے جھوٹا بنی مارا جاوے گا۔لاکن توریت شریف اگر الہام الہی سے ہے اور سچ تو ہمارے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم سچے