تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 80
رو نخ ۸۰ سے موجود ہے۔ان روایات پر جو کچھ کلام ہے اس کا محل اور ہے اور سجدتین کی رفع۔انس۔ابن عمر۔ابن عباس۔حسن بصری۔عطاء۔طاؤس۔امام مالک۔شافعی کا مذہب ہے۔اگر اجماعاً یہ رفع منسوخ ہوتی تو یہ خلاف کیوں ہوتا۔دوم :- اثبات کی روایات کو ایسی جگہ نفی کی روایات پر خواہ خواہ ترجیح حاصل ہے۔سوم : ثقہ کی زیادتی مقبول ہونے میں جمہور کا اتفاق ہے اور سجدتین کی رفع ثقات کی زیادتی ہے۔چہارم :۔جن لوگوں نے نفی کی روایت کی ہے ان کی روایت اس لئے مضر نہیں کہ یہ رفع یدین سجد تین کے وقت رسول اللہ صلعم نے کبھی ترک کی اور راوی نے رفع یدین کرتے نہ دیکھا اس لئے عدم رفع کی روایت کردی۔صاحب ہدایہ نے ترک فاتحہ خلف الامام پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کیا ہے۔ابطال دعوی اجماع کی تفصیل کا محل نہیں انشاء اللہ کسی اور جگہ مذکور ہوگا۔صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ ترندی نے عبادہ کی حدیث میں کہا ہے کہ اکثر اہل علم صحابہ کرام سے فاتحہ خلف امام کے وجوب پر ہیں اور بخاری نے جز القراۃ میں فرمایا ہے بے شمار تابعین قرایت خلف الامام کا فتویٰ دیتے تھے۔ولم يكن احمد بقدم على الحديث الصحيح عملا ولا رايا ولا قياسا ولا قول صاحب ولا عدم علمه بالخلاف الذي يسميه كثير من الناس اجماعاً ويقدمونه على الحديث الصحيح وقد كذب احمد من ادعى الاجماع ولم يمتنع تقديمه على الحديث الثابت وكذلك الشافعي ايضاً نص في رسالة الجديد على ان مالم يعلم فيه الخلاف فليس اجماعا ونصوص رسول الله صلعم عند الامام احمد وساير ائمة الحديث اجل من ان يقدم عليها توهم اجماع مضمونه عدم العلم بالخلاف ولو ساغ تعطلت النصوص وساغ لكل من لم يعلم مخالفا في حكم مسئلة ان يقدم جهله بالمخالف على النصوص فهذا هو الذي انکره الامام احمد والشافعي من دعوى الاجماع لا يظن بعض الناس انه استبعاده الوجود۔۔۔فقرہ سورہ کافرون میں لکم دینکم ولی دین کا جملہ عام لوگوں کی زبان پر منسوخ ہے اور فی الواقع منسوخ نہیں کیونکہ دین کے معنے لغت میں جزا اور سزا کے ہیں پس آیت کے معنے یہ 17