تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 26
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۶ بالکل خلاف تھے۔اور ایسے معجزات کو مخالف لوگ اس واسطے طلب کرتے تھے کہ اگر یہ معجزات خلاف بشارات ظہور پذیر ہوئے تو ہم بشارات اور حضور کی ان پیش گوئیوں کے ذریعہ حضور پر اعتراض کریں گے جو انبیا نے کتب مقدسہ میں حضور کے حق میں کئے ہیں۔اور اگر ایسے معجزات بلحاظ ان بشا رات کے ہم کو دکھائے نہ گئے تو معجزات کے نہ ہونے کا الزام قائم کر دیں گے مثلاً حضور علیہ السلام کی نسبت ایک بشارت میں یہ آیا ہے کہ جو کلام اس نبی موعود پر اترے گا وہ ایک دفعہ کتاب کے طور پر نازل نہ ہوگا بلکہ وہ کلام اس نبی موعود صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں رکھا جائے گا کچھ یہاں اور کچھ وہاں۔غور کر و کتب مقدسہ کی آیات ذیل:۔ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔استثنا ۱۸ باب ۱۸ حکم پر حکم حکم پر حکم قانون پر قانون۔قانون پر قانون ہوتا جاتا۔۔تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔ہاں وہ وحشی (عربی) کیسے ہونٹوں اور اجنبی زبان سے اس گروہ سے باتیں کرے گا۔یسعیا۔۲۸ باب ۹۔ان آیات سے صاف عیاں ہے کہ اس نبی موعود کو جو کلام عطا ہوگا وہ اس نبی کے منہ میں ڈالا جاوے گا اور بتدریح نازل ہوگا۔کچھ یہاں کچھ وہاں یعنی کچھ مکہ میں اور کچھ مدینہ میں کچھ کہیں کچھ کہیں۔اب قرآن کریم کی طرف نگاہ کر واس میں ایک جگہ لکھا ہے۔کافر کہتے ہیں :۔تَرْقُ فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرَقِيَّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتبًا نَّقْرَؤُهُ (بنی اسرائیل: ۹۴) تو اے محمد چڑھ جا آسمان میں اور ہم تیرے چڑھنے پر تجھے نہ مانیں گے جب تک اوپر سے ایسی کتاب نہ لا وے جس کو ہم پڑھ لیں۔اب بتلائیے اس طلب کا بجز اس کے کیا جواب ہو سکتا ہے کہ پاک ذات ہے میرا رب اس نے میرے لئے جو تجویز فرما دی وہ ناقص نہیں کہ اب اس تجویز کو بدلا وے اور میں تو بشر رسول ہوں۔بشر رسول تو ہمیشہ وہی معجزات دکھاتے رہے جو ان کی بشارت کے برخلاف نہ تھے ۲۶