تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 25

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۵ ہم کو خاص آیات کے بھیجنے سے مگر پہلوں کی تکذیب نے“۔اس سے یہ نکلا کہ خاص آیات اور کوئی خاص معجزات نہ آدیں گے۔اس سے عموم معجزات کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔دوسری صورت یعنی اگر الف اور لام سے عموم اور استغراق لیا جاوے تو یہ معنی ہوں گے۔کل آیات کے ارسال سے پہلوں کی تکذیب نے روکا۔مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ کوئی بھی معجزہ نہیں بھیجیں گے۔چہارم اس لئے کہ اس مَا مَنَعَنا والی آیت سے اتنا ہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معجزات کے بھیجنے سے تکذیب کے ماورا کسی چیز نے نہیں روکا اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی روک نہیں۔کہیں منکروں کی تکذیب سے باری تعالیٰ کو حجت بند کر دیتا ہے؟ ہمیشہ انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب ہوئی مگر وہ آتے رہے ہمیشہ معجزات پر تکذیب ہوا کی اور معجزات ہوا کئے۔الہی طاقتیں اور قوتیں منکرین کی روک سے رکتی نہیں۔مَنَعَنا لفظ کے معنے ہیں روکا ہم کو۔اس لفظ کے یہ معنی نہیں کہ ہم رک گئے۔ہاں اگر قرآن کریم میں یوں ہوتا۔مَا امْتَنَعَنَا اَنْ نُّرْسِلَ بالا يَاتِ إِلَّا انُ كَذَّبَ بِهَا أَلَا وَّلُونَ جس کے معنی ہیں نہیں رکے ہم آیات اور نشانات کے بھیجنے سے مگر اس لئے کہ پہلوں نے تکذیب کی۔تو البتہ منکرین معجزہ کی تقریر کچھ تھوڑی دور تک پڑتی مگر قرآن میں اِمْتَنَعَنَا نہیں مَنَعَنا ہے جس کے معنی ہیں روکا ہم کو نہ یہ کہ نہ رکے ہم۔غرض تکذیب نے روکا اور باری تعالیٰ نہ رکا۔روکنے کے ثبوت میں بفرض و تسلیم یہی آیت اور نہ روکنے کا ثبوت وہ آیات ہیں جن میں ثبوت آیات ہے وَالْقُرْآنُ مُتَشَابِهًا أَي يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضاً۔قرآن کریم کی آیات متشابہ ہیں یعنی ایک آیت دوسری آیت کے مصدق ہوتی ہے نہ اس کے مخالف اور مکذب - هذَا أَيْضًا بِتَأْتِيدِ رُوحِ الْقُدُسِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ پنجم اس لئے کہ بعض وہ معجزات جن کو یہودی اور عیسائی اور اہل مکہ اہل کتاب کے سمجھانے اور بہکانے سے پوچھتے تھے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی پیش گوئیوں اور بشارتوں کے ۲۵