تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 127 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 127

۱۲۷ مبادى الصرف و النحو اكْرَمَ يُكْرِمُ۔اكْتَسَبَ سے يَكْتَسِبُ - تَصَرَفَ سے يَتَصَرِّفُ - مضارع بنتا ہے۔ما - لا پہلے لانے سے منفی۔س۔سَوفَ - لَن - آن۔اِن لانے سے مستقبل جیسے آلا يَعْلَمَ مَنْ خَلَقَ - سَيَعْلَمُونَ - سَوْفَ تَعْلَمُونَ - لَنْ أَكَلِمَ الْيَوْمَ - أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ - إِن يَتَفَرِّقَا يُغْنِ اللهُ كُلاً اور لام تاکید اور ما نافیہ سے حال جیسے إِنِّي لَيَحْزُنُنِي - وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ ماذا تكسب غدًا اور ماقبل آخر کوفتہ اور حرف مضارع کو ضمہ دینے سے مضارع مجہول بنتا ہے۔تاکید ہے جیسے ماضی میں کہا گیا ہے۔اسی طرح مضارع کی مشق کراؤ۔آٹھواں سبق لَمْ لَمَّا لَامِ آمَر لاء نہنی کو مضارع کے ابتدا میں لانے سے مضارع کے آخر میں جو رفع 3 اور علامت رفع ہو اُسے دور کر دو اور اس کو جزم کہتے ہیں۔اور ایسا ہی اِن إِذْ مَا۔اور اسمائے ذیل سے شرط اور جزا کے دونوں مضارعوں پر جزم آجاتا ہے۔ما مَنْ مَهُمَا مَتَى أَيَّانَ أَيْنَ أَثْى حَيْثُمَا۔اور آنٹی اس لیے کہا جاوے گا۔واحد تثنیه جمع لَمْ يَعْلَمُ لَمْ يَعْلَمَا لَمْ يَعْلَمُوا أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ - لَمَّا يَذُوقُوا لَمْ تَعْلَمُ لَمْ تَعْلَمَا لَمْ يَعْلَمُنَ لِيُنْفِقُ ذُو سَعَةٍ لَا تُشْرِكْ بِاللهِ لمْ تَعْلَمُ لَمْ تَعْلَمَا لَمْ تَعْلَمُوا إِنْ تُؤْمِنْ تَسْلَمْ- اذْمَا تَتَّقِ تَرْتَقِ لَمْ تَعْلَمَى لَمْ تَعْلَمَا لَمْ تَعْلَمْنَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَبِهِ - مَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ - لَمْ أَعْلَمُ لَمْ نَعْلَمُ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ یادر ہے اگر شرط ماضی ہو تو مضارع جو اخیر میں آیا ہے مرفوع بھی ہو سکتا ہے۔ان قمت أقومُ۔اور آم بھی جائز ہے۔-