365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 29 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 29

درس القرآن 29 درس القرآن نمبر 176 جیسا کہ شروع میں ذکر ہو چکا ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ایک القاء کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ البقرۃ میں چار اہم بنیادی مضامین ہیں ایک تلاوت آیات، دوسرے کتاب، اور تیسرے کتاب کی حکمت ، اور چوتھا مضمون تزکیہ کا ہے۔آج کی آیت سے تزکیہ کا مضمون خاص طور پر شروع ہے۔گو یہ تقسیم عمومی رنگ کی ہے اور باقی مضامین میں بھی تزکیہ کا مضمون شامل ہے۔تزکیہ میں ظاہری نشو و نما اور ترقی اور عددی کثرت کی طرف بھی اشارہ ہے مگر اس کا اصل مفہوم روحانی پاکیزگی اور صفائی ہے۔فرماتا ہے، المْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ الُوْنَ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُو اتم احْيَاهُمْ إِنَّ اللهَ لَنْ وَفَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ (البقرة:244) اس آیت میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے ان کی ظاہری نشو و نما اور ترقی بھی اور روحانی پاکیزگی اور صفائی بھی اس بات میں ہے کہ دشمن کے حملوں کے سامنے موت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔فرماتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ الْوُنَّ حَذَرَ المَوتِ کہ تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور وہ موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے۔یہ بنی اسرائیل کا ذکر ہے جو تفصیل سے شروع سورۃ میں ہو چکا ہے فقال لَهُمُ اللهُ مُوتُوا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم موت کے ڈر سے نکلے ہو تو یاد رکھو کہ ایک موت قبول کرنا پڑے گی اور ثُمَّ اَحيَاهُمُ پھر اللہ نے انہیں زندہ کیا إِنَّ اللَّهَ لَنْ وُ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ دیکھو اللہ تعالیٰ سچی قربانی کو ضائع نہیں کرتا۔کوئی قوم اور کوئی نسل ہو اللہ تعالیٰ کا فضل ساری انسانیت پر ہوتا ہے۔وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ لیکن اکثر لوگ چونکہ خدا تعالیٰ کے اس فضل کی قدر نہیں کرتے اس لئے محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ވ މ