365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 177 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 177

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 105 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔177 قرآن کریم کی یہ تعلیم ہر گز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ( البلد :18) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مر تبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہیے۔جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لیے رو رو کر دعا کی ہو۔خدا تعالیٰ تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے، مگر ہمسایہ کو علم نہیں ہو تا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے۔تمہیں چاہیے کہ تَخَلْقُوْا بِاخْلَاقِ اللهِ بنو۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو، کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدی کے دو شاگر د تھے ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کیا کرتا تھا دو سر اجلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسر اجلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا۔جب تک رحم، دعا، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔“ مشکل الفاظ اور ان کے معانی مرحمه رحم ستار ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 60، 61 مطبوعہ ربوہ) تاثیر اثر ، خاصیت پردہ پوشی کرنے والا تَخَلَّقَوْا بِاخْلاقِ اللہ اللہ کے اخلاق اختیار کرو