365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 167 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 167

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔167 ”جب میری عمر غالباً پندرہ برس کی ہوگی ایک کھتری سے میں نے کہا جو حضرت والد صاحب کے حضور میں بیٹھا ہوا اپنی تلخ کامیابیاں اور نامر ادیاں بیان کر تا اور سخت گڑھ رہا تھا۔میں نے کہا۔لوگ دنیا کے لیے کیوں اس قدر دُکھ اُٹھاتے اور اس کے غم و ہم میں گرفتار ہیں۔اس نے کہا تم ابھی بچہ ہو۔جب گرہستی ہو گے تب تمہیں ان باتوں کا پتہ لگے گا۔فرمایا: ایک عرصہ کے بعد جب غالباً میری عمر چالیس کے قریب ہو گی کسی تقریب سے پھر اسی کھتری سے گفتگو کا اتفاق ہوا۔میں نے کہا۔اب بتاؤ اب تو میں گر ہستی ہوں۔اس نے کہا۔تم تو ویسے ہی ہو۔فرمایا: ہر شخص اپنے دل میں جھانک کر دیکھے کہ دین و دنیا میں سے کس کا زیادہ غم اس کے دل پر غالب ہے۔اگر ہر وقت دل کا رخ دنیا کے امور کی طرف رہتا ہے تو اُسے بہت فکر کرنی چاہیے۔اس لیے کلماتِ الہیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔فرمایا: کاش لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آجاتی کہ جس شخص کا تمام ہم و غم دین کے لیے ہوتا ہے۔اس کے دنیا کے ہم و غم کا اللہ تعالیٰ متکفل و متولی ہو جاتا ہے۔فرمایا: میں نے کبھی نہیں سنا اور نہ کوئی کتاب گواہی دیتی ہے کہ کبھی کوئی نبی بھو کا مرا ہو یا اس کی اولاد دروازوں پر بھیک مانگتی پھرتی ہو۔ہاں دنیا کے ملوک اور امراء اور اغنیاء کا یہ برا حال اکثر سنا گیا ہے کہ اُن کی اولاد نے در بدر ٹکڑے مانگے ہیں۔خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ ہے کہ کبھی کوئی کامل مومن بستر نرم سے خاکستر گرم پر نہیں بیٹھا اور نہ اس کی اولاد کو روز بد دیکھنا نصیب ہوا۔اگر لوگ ان باتوں پر پختہ ایمان لے آئیں اور سچا اور پاک بھر وسہ اللہ تعالیٰ پر کر لیں تو ہر قسم کی روحانی خود کشی اور دلی جلن سے رہائی پا جائیں۔فرمایا: اکثر لوگوں کو اولاد کی آرزو بھی اس خیال سے لگی رہتی ہے کہ کوئی اُن کی مردار دنیا کا وارث پیدا ہو جائے۔نہیں جانتے کہ اگر وہ بد کار و ناہنجار نکلے تو اُن کا کمایا ہوا روپیہ اور