365 دن (حصہ سوم) — Page 163
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 96 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔163 قرآن کے نام میں پیشگوئی: اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایہ ناز ایمان و اعتقاد ہوتے ، تو ہم قوموں کو شر مساری سے منہ بھی نہ دکھا سکتے۔میں نے قرآن کے لفظ میں غور کی۔تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی ہے۔وہ یہ ہے کہ یہی قرآن پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی۔جبکہ اور کتابیں بھی اس کے ساتھ پڑھنے میں شریک کی جائیں گی۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا ر ہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔بڑے تأسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔“ مشکل الفاظ اور ان کے معانی ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 386 مطبوعہ ربوہ) بطلان جھوٹ ، باطل استیصال ختم، نابود افسوس متأسف التفات توجہ تعلیم اعتناء خیال تدارس