365 دن (حصہ سوم) — Page 130
130 درس حدیث نمبر 109 حضرت جریر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی کمی کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی این کلم نے چاند کی طرف دیکھا اور چودہویں چاند کی رات تھی تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت نہیں کرنی پڑتی اس لئے اگر تمہیں استطاعت ہو تو تم سورج کے طلوع سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے کی نماز سے رہ نہ جاؤ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ( ط :131) ( بخاری کتاب مواقیت الصلوۃ باب فضل الصلوة الفجر 573) کہ سورج کے نکلنے سے پہلے بھی اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس کے ڈوبنے سے پہلے بھی۔اس بڑی پیاری حدیث میں ہمارے نبی صلی ا یم نے دنیا و آخرت کے سب سے زیادہ خوبصورت منظر کو دیکھنے اور اس کا لطف اٹھانے کی حد درجہ آسان اور مفت ملنے والی قیمت بتائی ہے لوگ تھوڑے خوبصورت نظارے کو دیکھنے کے لئے، اس کا لطف اٹھانے کے لئے جان جو کھوں میں ڈالنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں دشوار گزار پہاڑوں کا سفر کرتے ہیں موسمی شدت برداشت کرتے ہیں ، ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ چند لمحے کے کسی خوبصورت نظارہ کا دیدار کر لیں۔چاند سورج کے چڑھنے، غروب ہونے کی جھلک دیکھ لیں، کسی آبشار کو گرتے یا کسی آتش فشاں کو پھوٹتے مشاہدہ کر لیں۔ہمارے نبی صلی الکریم نے دنیا و آخرت کے سب سے حسین نظاروں کے دیدار کے لئے صرف یہ فرمایا ہے کہ تم فجر کی نماز اور عصر کی نماز کی ادائیگی میں کو تاہی نہ کرنا۔یہ کیا ہی ستا سودا ہے!!!