365 دن (حصہ سوم) — Page 129
129 درس حدیث نمبر 108 حضرت عبد اللہ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ افَشُوا السَّلَام وَاطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامُ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ نرمندى كتاب صفة القيامة والرقائق والورع باب منه 2485) ہمارے نبی صلی ا یکم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو اس وقت ان دونوں شہروں کی زندگی مسلمانوں کے لئے بالکل مختلف تھی۔مکہ میں مسلمان دکھوں اور اذیتوں کا شکار تھے۔ہر وقت دشمن کفار قریش کی طرف سے ان کے سروں پر تلوار لٹکی ہوئی تھی۔مسلمانوں کے لئے اذان دینے، باجماعت نمازیں ادا کرنے، مساجد بنانے ، اپنی اجتماعی سرگرمیاں کرنے کا کوئی موقعہ نہ تھا۔مدینہ پہنچ کر حضور صلی للہ یکم ایک اسلامی معاشرہ کی بنیاد ڈال رہے تھے جس کا مقصد تمام دنیا کے لئے اور تمام آئندہ آنے والے زمانوں کے لئے ایک نمونہ کا معاشرہ قائم کرنا تھا۔حضور صلی الیکم نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں سے جو پہلا خطاب فرمایا اس میں یہ الفاظ فرمائے جن میں اسلامی معاشرہ کی بنیادی اینٹ رکھی گئی ہے۔پہلی بات جو حضور صلی علی کریم نے فرمائی وہ یہ تھی کہ آفشوا السَّلَام سلام کو رواج دو۔ہر معاشرہ میں لوگوں کے ایک دوسرے سے ملنے پر کچھ نہ کچھ اچھی بات کہنے کا طریق ہوتا ہے جو معاشرہ کی زندگی کو آسان کر دیتا ہے مگر سلام میں صرف یہ مقصد نہیں بلکہ معاشرہ میں امن اور سلامتی کے قیام کی ضمانت ہے جو ہر ملنے والا دوسرے کو دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ معاشرہ میں کوئی اچھا کام بغیر امن و امان کے حاضر نہیں ہو سکتا۔دوسرا ارشاد حضور صلی ا کرم نے فرمایا آطْعِمُوا الطَّعَامَ کھانا کھلاؤ اور معاشرہ کے قیام کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔تیسرا ارشاد جو اسلامی معاشرہ کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے آپ صلی ا ہم نے یہ دیا کہ صَلُّوا وَالنَّاسُ نیا کہ جب دنیا سوئی پڑی ہو اس وقت اٹھو اور نماز پڑھو۔اس کے بعد حضور صلی کریم نے فرمایا کہ تین باتوں پر عمل کرو گے تو اس کے بابرکت نتائج نکلیں گے اور ایک ایسا معاشرہ قائم ہو گا جس کے نتیجہ میں تم تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ تم لوگ خیر و سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے۔