365 دن (حصہ سوم) — Page 108
108 درس حدیث نمبر 91 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: كَانَ النبي يا الله يَفْعَلُهُ ( بخاری کتاب الاستیذان باب التسليم على الصبيان 6247) ہر قوم میں ہر ملک کے لوگوں میں ملتے وقت کچھ نہ کچھ کہنے کا رواج ہے۔ہمارے نبی صلی الم نے جو طریق ہمیں سکھایا ہے وہ سب سے زیادہ امتیاز رکھتا ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ملتے ہوئے کچھ کہا جائے اس اعتبار سے تو جو طریق اسلام نے سکھایا ہے وہ کہا جاسکتا ہے دوسرے لوگوں کے طریق سے اپنے فائدہ میں مشترک ہے لیکن جو طریق اسلام نے سکھایا اس میں دو مزید خوبیاں ہیں جو دوسری اقوام کے طریق میں نمایاں نظر نہیں آئیں۔جو طریق ہمارے نبی صلی ا ہم نے السلام علیکم کا سکھایا ہے اس میں ایک خوبی تو یہ ہے کہ یہ ایک دعا بھی ہے ایک مسلمان دوسروں کو ملتے ہوئے صرف Greet نہیں کرتا بلکہ ان کو دعا بھی دیتا ہے اور دعا بھی ایسی جامع ہے جو یہ مضمون اپنے اندر رکھتی ہے کہ تم ہر طرح کے خطرہ سے ، ہر تکلیف سے ، ہر بیماری سے ، ہر پریشانی سے محفوظ ہو۔دوسری امتیازی خوبی السلام علیکم میں یہ ہے کہ اس کے ذریعہ کہنے والا سنے والے کو یہ ضمانت دیتا ہے کہ تمہیں میری طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔میری ذات سے تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔میں تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچاؤں گا بلکہ میری طرف سے تمہیں سلامتی اور آرام اور شفقت ملے گی۔جو حدیث آج ہم نے پڑھی ہے اس کا مضمون یہ ہے کہ حضرت انس کچھ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان بچوں کو سلام کیا اور پھر کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ یکم اگر بچوں کے پاس سے گزرتے تو سلام کہا کرتے تھے۔یہ حدیث جہاں حضور صلی ی کمی کی بچوں پر شفقت اور پیار کا پتہ دیتی ہے وہاں چھوٹی عمر سے ہی بچوں کی نیک تربیت کی ذمہ داری کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے۔