365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 3 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 3

درس القرآن 3 درس القرآن نمبر 80 وَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْ لَا يُكَلِّمُنَا اللهُ اَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ (البقرة:120،119) قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَا الْآيَتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَ لَا تُسْلُ عَنْ أَصْحِبِ الْجَحِيمِ بنی اسرائیل کے اس اعتراض کے سلسلہ میں نبوت بنی اسماعیل میں کیوں چلی گئی اور الہام الہی کا سلسلہ بنی اسرائیل سے کیوں منقطع کر دیا گیا اس آیت میں فرماتا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا علم نہیں رکھتے ان کا یہ وطیرہ ہے کہ یہ نبی جو اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا دعویٰ کرتا ہے اس کی کیا ضرورت ہے لَو لَا يُكَلِّمُنَا اللہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست کیوں بات نہیں کرتا، کیوں ہم پر براہ راست کلام نازل نہیں ہوتا او تأتينا ايةً یا اگر ہم اس قابل نہیں تو کوئی عذاب کا نشان دکھا کر ہمیں ختم کیوں نہیں کر دیا جاتا كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِم اس قسم کی باتیں پہلے انبیاء کے مقابلہ میں بھی کہی جاتی تھیں۔حضرت موسیٰ کو کہا گیا تھا کہ تم نے ہمیں اس سر زمین میں پہنچانے کا وعدہ پورا نہیں کیا جو ایک زبر دست نشان کے وعدہ کے طور پر تھا۔حضرت مسیح ناصری سے بار بار کہا گیا کہ رومنوں سے آزادی دلوانے کا نشان تم نے نہیں دکھایا تشَابَهَتْ قُلُوبُهُم موجودہ بنی اسرائیل کے دل جو رسول اللہ صلی علی کم پر اعتراض کر رہے ہیں ان پہلے مخالفین کے دلوں کی طرح ہی ہیں ورنہ جہاں تک نشانوں کا تعلق ہے قد بَيَّنَا الأيتِ لِقَومِ يُوقنون یقین کرنے والے لوگوں کے لئے تو ہم نے خوب کھول کر روشن نشان دکھا دیئے ہیں اور ان کا یہ اعتراض کہ کلام آنحضرت صلی علی کم پر کیوں اترا، ہم پر جو بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں کیوں نہیں اترتا، تو اے محمد صلی اللہ علیک اِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا کہ ہم نے تمہیں اس حال میں بھیجا ہے کہ تم ہی اس بات کے حق دار تھے کہ تمہیں بھیجا جاتا۔تم بشیرا بھی ہو، ماننے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لئے تمہیں بشارت دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے ونذیرا اور انکار کرنے والوں اور شرارت کرنے والوں کے لئے تمہیں ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے وَلَا تُسْتَلُ عَنْ اصحب الْجَحِيمِ تمہارے لئے گھبرانے کے کوئی بات نہیں جو لوگ انکار اور شرارت کی راہ سے اپنے آپ کو دوزخی بنارہے ہیں ان کے انکار کی ذمہ واری تم پر نہیں، تمہارا کام بشارت دینا اور انذار کرنا ہے۔