365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 45 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 45

درس القرآن 45 درس القرآن نمبر 113 إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَ اَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَ لَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ (البقرة: 171,170) گزشتہ درس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں جو رسول پاک صلی یی کم کے عظیم کاموں کا جو ذکر ہے ان میں دوسرے اور تیسرے کام یعنی کتاب شریعت، قوانین و احکامات کا ذکر اور ان کی حکمت کا بیان شروع ہوا تھا اور پہلا حکم یہ تھا كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلْلًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشیطن کہ زمین میں جو کچھ جائز اور پاکیزہ ہے کھاؤ مگر شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو۔آج کی آیت میں یہ بیان ہے کہ حلال و پاکیزہ کھانے کا حکم اور شیطان کے پیچھے چلنے سے ممانعت کی حکمت کیا ہے؟ فرماتا ہے: اِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاء اور دوسرے یہ کہ وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لا تعلمون پہلی بات یعنی شیطان تمہیں سوء اور فحشاء کا حکم دیتا ہے کی تشریح یہ ہے کہ شریعت نے جو حکم دیا ہے کہ حلال اور طیب کھاؤ وہ حکم تمہارے لئے ذاتی طور پر بھی مفید ہے اور تمہارے دوسروں سے تعلقات کے لحاظ سے بھی مفید ہے۔مگر غور کر کے دیکھ لو شیطانی تحریکات تمہاری ذات کے لئے بھی مضر ہیں اور تمہارے دوسروں سے اچھے تعلقات کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔“ شیطان کے پیچھے چلنے کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ ذاتی طور پر انسان کو مختلف قسم کی بُرائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے جیسے بد ظنی ہے یا جھوٹ ہے یا کینہ ہے یا جہالت ہے یا سستی اور غفلت ہے یا بُزدلی ہے یا تکبر ہے یا بے غیرتی ہے یا نا شکری ہے یہ وہ بُرائیاں ہیں جن سے صرف انسان کی اپنی ذات کو نقصان پہنچتا ہے اور جن کی طرف سوء کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔لیکن جب انسان اپنی اصلاح نہیں کرتا تو دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فحشاء یعنی ایسی بدیاں کرواتا ہے