365 دن (حصہ دوم) — Page 44
درس القرآن 44 س القرآن نمبر 112 يَايُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَلًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ لَكُمْ (البقرة:169) عَدُو مُّبِينٌ سورۃ البقرۃ میں قرآن شریف کے چار اہم مضامین بیان ہیں جن کا ذکر اس دعا میں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کے وقت اللہ کے حضور کی تھی کہ ان میں وہ عظیم الشان رسول مبعوث فرما جو چار عظیم الشان کام سر انجام دینے والا ہو گا۔پہلا کام : تلاوت آیات جس سے مراد اسلام کے بنیادی عقائد وارکان ایمان کی تعلیم ہے۔دوسرے: تعلیم کتاب یعنی اسلام کے بنیادی احکامات و اعمال جو ایک مسلمان کو کرنے چاہئیں۔اور تیسرے: تعلیم حکمت یعنی ان قوانین و احکامات کی حکمت اور ان کے فوائد کا بیان۔اور چوتھے: اسلام لانے والوں کے تزکیہ اور پاکیزگی اور ان کے نشو و نما کے ذرائع۔آج کی آیات سے تعلیم کتاب او تعلیم حکمت کا مضمون شروع ہوتا ہے۔کتاب یعنی قوانین جن پر عمل کرنا انسان کے مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے اور ان قوانین کی حکمت کے بیان میں سب سے پہلے اس چیز کو لیا ہے جو انسانی زندگی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور وہ ہے کھانا پینا۔شاید کسی کو خیال جائے کہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اسلام کے بنیادی احکامات ہیں ان کا ذکر پہلے چاہیئے تھا۔بے شک یہ چیزیں ضروری ہیں مگر ایک انسان ان چیزوں کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر زندگی ہی نہ ہو تو ان میں سے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔نیز یہ عبادات بھی مال حرام کھاتے ہوئے اور ناپاک اور نامناسب غذا استعمال کرتے ہوئے نہ صحیح رنگ میں کی جاسکتی ہیں، نہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہو سکتی ہیں اس لئے قوانین و احکامات کی تفصیل کی ابتداء حلال و طیب کھانے پینے سے شروع کی ہے اور فرماتا ہے۔اے سب لو گو کیونکہ یہ پیغام سب قوموں، ملکوں، رنگوں اور نسلوں کے لئے ہے اس میں سے جو زمین میں جائز ہے اور شریعت نے اس کو حلال قرار دیا ہے کھاؤ مگر صرف جائز نہیں وہ تمہارے مزاج اور طبیعت اور صحت کے لحاظ سے طیب اور پاکیزہ بھی ہونا چاہیئے۔اگر ایسا نہ کرو گے تو تم شیطان کے پیچھے چلنے والے بن جاؤ گے اور وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔تو دیکھو یہ کتنی بڑی نادانی ہے اور حکمت کے سراسر خلاف ہے کہ انسان اپنے کھلے کھلے دشمن کی بات ماننے لگ جائے۔