365 دن (حصہ دوم) — Page 26
درس القرآن 26 درس القرآن نمبر 99 قَد نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِيَنَكَ قِبْلَةً تَرْضُهَا فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ (البقرة:145) پچھلے درس میں یہ ذکر ہوا تھا کہ قبلہ کا بدلنا ایک ظاہری علامت تھی اس بات کی کہ دنیا میں ایک زبر دست روحانی تبدیلی ہو رہی ہے جو رسول کریم صلی کمی کی ذات مبارک کے ساتھ وابستہ ہے۔رسول کریم صلی یی کم کی بعثت سے اب نہ یہودیت قابل عمل رہی، نہ عیسائیت واجب العمل رہی، زر تشت ازم کا دور ختم ہوا، ہندومت اور بدھ مت رخصت ہوئے۔ان سب کی اچھی تعلیم اسلام میں شامل ہے اور ان کے بگاڑ سے اسلام کی تعلیم پاک ہے۔اب اللہ تعالیٰ کی رضا محمد مصطفی صلی اللی علم کی رضاء میں ہے قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ہم تمہاری یہ خواہش اور یہ مرضی جانتے ہیں اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں فَلَنُوَلِيَنَّكَ قِبلَةٌ تَرضُهَا اب ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جو تمہیں پسند ہے فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اس لئے تم اپنا رخ قابل احترام مسجد کی طرف پھیر و۔اور اے مسلمانو!) وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ اور تم جہاں کہیں بھی ہو ، اپنا رخ اس کی طرف کرو وَ إِنَّ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ اور وہ لوگ جن کو ماضی میں کتاب دی گئی تھی، جانتے ہیں کہ یہ بات (جو ہم نے بیان کی ہے) کامل صداقت ہے ان کے رب کی طرف سے وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ اور تم اس دھو کہ میں نہ رہنا کہ تمہارے انکار کا کسی کو علم نہیں ہو رہا۔اللہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔