365 دن (حصہ دوم) — Page 217
217 درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 76 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔ایمان کی قوت: “خدا کی راہ میں سختی کا برداشت کرنا۔مصائب اور مشکلات کے جھیلنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جانا ایمانی تحریک ہی سے ہوتا ہے۔ایمان ایک قوت ہے۔جو سچی شجاعت اور ہمت انسان کو عطا کرتا ہے۔اس کا نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی زندگی میں نظر آتا ہے۔جب وہ رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ ہوئے، تو وہ کونسی بات تھی کہ اس طرح پر ایک بیکس ناتواں انسان کے ساتھ ہو جانے سے ہم کو کوئی ثواب ملے گا۔ظاہری آنکھ تو اس کے سوا کچھ نہ دکھاتی تھی کہ اس ایک کے ساتھ ہونے سے ساری قوموں کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔جس کا نتیجہ صریح یہ معلوم ہوتا تھا کہ مصائب اور مشکلات کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑے گا اور وہ چکنا چور کر ڈالے گا، اسی طرح پر ہم ضائع ہو جائیں گے۔مگر کوئی اور آنکھ بھی تھی جس نے ان مصائب اور مشکلات کو بیچ سمجھا تھا اور اس راہ میں مر جانا اس کی نگاہ میں ایک راحت اور سرور کا موجب تھا۔اس نے وہ کچھ دیکھا تھا جو ان ظاہر بین آنکھوں کے نظارہ سے نہاں در نہاں اور بہت ہی دور تھا۔وہ ایمانی آنکھ تھی اور ایمانی قوت تھی جو ان ساری تکلیفوں اور دکھوں کو بالکل بھیج دکھاتی تھی۔آخر ایمان ہی غالب آیا اور ایمان نے وہ کرشمہ دکھایا کہ جس پر ہنستے تھے۔جس کو ناتواں اور بیکس کہتے تھے۔اس نے اس ایمان کے ذریعہ سے ان کو کہاں پہنچا دیا۔وہ ثواب اور اجر جو پہلے مخفی تھا۔پھر ایسا آشکارا ہوا کہ اس کو دنیا نے دیکھا اور محسوس کیا کہ ہاں یہ اسی کا ثمرہ ہے۔ایمان کی بدولت وہ جماعت صحابہ کی نہ تھکی اور نہ ماندہ ہوئی۔بلکہ قوت ایمانی کی تحریک سے بڑے بڑے عظیم الشان کام دکھائے۔اور پھر بھی کہا تو یہی کہا کہ جو حق کرنے کا تھا نہیں کیا۔ایمان نے ان کو وہ قوت عطا کی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سر کا دینا اور جانوں کا قربان کر دینا ایک ادنی سی بات تھی اور اہل اسلام نے جب کہ ابھی کوئی بین نتا ئج نظر نہ آتے تھے۔دیکھو! کس قدر مسلمانوں نے دشمنوں کے ہاتھوں سے کیسی کیسی تکلیفیں اور محض لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کہنے کے بدلے برداشت کیں۔مصیبتیں