365 دن (حصہ دوم) — Page 161
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 44 161 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پے در پے پیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔دانشمند اور زیرک انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سُرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسی سرور کو حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دُعا پید اہو کر وہ لذت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذت حاصل ہو جائے گی۔پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اُس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ ( بود : 115) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دُعا کرے کہ وہ نماز جو صد یقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔یہ جو فرمایا ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہیں یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں مگر نہ رُوح اور راستی کے ساتھ۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔اُن کی رُوح مُردہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا اور الصلوۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجودیکہ معنی وہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی رُوح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے وہ نماز یقینا یقینابُرائیوں کو دور کر دیتی ہے۔نماز نشت و برحناست کا نام نہیں۔نماز کا مغز