365 دن (حصہ دوم) — Page 156
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 41 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔156 اپنی جماعت کیلئے ایک بہت ضروری نصیحت : آج کل زمانہ بہت خراب ہو رہا ہے۔قسم قسم کا شرک بدعت اور کئی خرابیاں پید اہو گئی ہیں۔بیعت کے وقت جو اقرار کیا جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے اب چاہیئے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہے ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قائم ہو گے تو اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں برکت دے گا۔اپنے اللہ کے مطابق پورا تقویٰ اختیار کر و۔زمانہ نازک ہے۔قہر الہی نمودار ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنالے گا۔وہ اپنی جان اور اپنی آل و اولا د پر رحم کرے گا۔دیکھو انسان روٹی کھاتا ہے جب تک سیری کے موافق پوری مقدار نہ کھالے تو اس کی بھوک نہیں جاتی۔اگر وہ ایک بھورہ روٹی کا کھالیو لے تو کیا وہ بھوک سے نجات پائے گا؟ ہر گز نہیں اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اُسے ہر گز نہ بچا سکے گا بلکہ باوجود اس قطرہ کے وہ مرے گا۔حفظ جان کے واسطے وہ قدر محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جب تک نہ کھالے اور نہ پیوے نہیں بچ سکتا۔یہی حال انسان کی دینداری کا ہے جب تک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیری ہو بچ نہیں سکتا۔دینداری، تقویٰ، خدا کے احکام کی اطاعت کو اس حد تک کرنا چاہیئے جیسے روٹی اور پانی کو اس حد تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بھوک اور پیاس چلی جاتی ہے۔خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑنا ہوتا ہے اگر ایک حصہ شیطان کا ہے اور ایک اللہ کا تو اللہ تعالیٰ حصہ داری کو پسند نہیں کرتا۔یہ سلسلہ اس کا اسی لیے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آوے۔اگر چہ خدا کی طرف آنا بہت مشکل ہو تا ہے اور ایک قسم کی موت ہے مگر آخر زندگی بھی اسی میں ہے۔جو اپنے اندر سے شیطانی حصہ نکال کر پھینک دیتا ہے وہ مبارک انسان ہوتا ہے اور اس کے گھر اور نفس اور شہر سب جگہ اس کی برکت پہنچتی ہے۔لیکن اگر اس کے حصہ میں ہی تھوڑا