365 دن (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 104 of 225

365 دن (حصہ دوم) — Page 104

درس القرآن 104 درس القرآن نمبر 152 زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوا وقَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (البقرة:213) قرآن شریف اس ہستی کی کتاب ہے جس نے انسانی نفس کو پیدا کیا اور کتاب بھی اس نفس کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے اتاری۔اس لئے وہ انسانی نفس کی گہرائیوں کو جانے والی ہے۔یہ ذکر الہی اور تعلق باللہ سے اعراض کرنے والوں کا ذکر کر کے اس آیت میں ان کے اعراض اور انکار کی دو بنیادی نفسیاتی وجوہات کا ذکر فرماتا ہے ایک تو یہ کہ ان انکار کرنے والوں کو دنیا کی زندگی بڑی خوبصورت نظر آتی ہے اور بظاہر جھم جھم کرنے والی یہ زندگی ان کے انکار کا باعث ہے۔دوسرے وہ ایمان لانے والوں سے تمسخر کرتے ہیں اور یہ غلط سوچ رکھنے والے لوگوں کے لئے نہایت دلچسپ مشغلہ ہے فرما یا زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا ان لوگوں کو جنہوں نے انکار کیا دنیا کی زندگی بڑی خوبصورت نظر آتی ہے وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا اور وہ ان سے جو ایمان لائے تمسخر کرتے ہیں۔یہ دوز بر دست محرکات ان کے انکار کے ہیں۔اس کی تشریح میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔دنیا اپنی تمام دلفریبیوں اور رعنائیوں کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی ہے اور طاقت اور دولت کے نشہ نے ان کی نگاہوں کو ایسا خیرہ کر رکھا ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں ہم مسلمانوں سے کہاں شکست کھا سکتے ہیں بلکہ وہ ان پیشگوئیوں پر (جو اسلام اور مسلمانوں کی فتح کے بارہ میں ہوں۔ناقل ) مسلمانوں سے تمسخر کرتے اور ان کا مضحکہ اُڑاتے ہیں اور انہیں طعنے دیتے ہیں کہ ہمیں تو نقد مل رہا ہے۔تمہارا انعام کہاں ہے۔" نفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 460 مطبوعہ ربوہ) کفار کے اس اعراض اور تمسخر کے جواب میں فرماتا ہے وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ القيمة کہ یہ اعراض و انکار اور یہ تمسخر صرف اس دنیا میں ہے مگر ابھی تو ایک اور عالم آنے والا ہے، ایک قیامت آنے والی ہے جس میں متقی اعراض کرنے والوں اور تمسخر کرنے والوں پر