365 دن (حصہ دوم) — Page 99
درس القرآن 99 درس القرآن نمبر 149 ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السّلْمِ كَافَةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُةٍ مُّبِين فَإِنْ ذَكَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ تَكُمُ الْبَيِّنْتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ (البقرة: 210،209) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ میں اس سے قبل عبادات و ارکان روزہ، حج وغیرہ کے بارہ میں تفصیلی ہدایات اور حکمتوں اور برکتوں کا بیان ہے اب مضمون آہستہ آہستہ حقوق انسانی کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ان دونوں مضامین کے درمیان پہلے مضمون کے تتمہ اور دوسرے مضمون کی تمہید کے طور پر ذکر الہی اور اسلام کی تعلیم پر پوری طرح عمل کرنے کی تلقین اور شیطانی راہوں سے بچنے کے لئے اندار ہے یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السّلْمِ كَافَةً فرماتا ہے۔اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم سب کے سب فرمانبرداری کے دائرہ میں آجاؤ ولا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشیطن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ مفہوم بیان فرماتے ہیں کہ : “اے ایمان والو خدا کی راہ میں گردن ڈال دو اور شیطانی راہوں کو اختیار مت کرو کہ دو شیطان تمہارا دشمن ہے۔اس جگہ شیطان سے مراد وہی لوگ ہیں جو بدی کی تعلیم دیتے ہیں۔" (یادداشتیں براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 416) اس آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:۔“اے مومنو! تم سارے کے سارے پورے طور پر اسلام میں داخل ہو جاؤ اور اس کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر کامل طور پر رکھ لو۔یا اے مسلمانو تم اطاعت اور فرمانبرداری کی ساری راہیں اختیار کرو۔اور کوئی بھی حکم ترک نہ کرو۔۔۔پہلی صورت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ یعنی تمہارا کوئی فرد بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اطاعت اور فرمانبرداری کے مقام پر کھڑا نہ ہو۔۔۔۔۔دوسری صورت میں اس کے یہ معنے ہیں وو کہ تم پورے کا پورا اسلام قبول کرو۔یعنی اس کا کوئی حکم ایسانہ ہو جس پر تمہارا عمل نہ ہو۔" ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 456 مطبوعہ ربوہ)