365 دن (حصہ دوم) — Page 98
درس القرآن 98 درس القرآن نمبر 148 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِكْ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (البقرة: 208) قرآن شریف کا یہ طریق ہے کہ وہ تقابل کے ذریعہ ایک مضمون کو خوب کھولتا ہے۔نماز، زکوۃ، روزہ، حج کے مسائل اور حکمتوں کے بیان کے بعد جو انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق اور اس کی یاد کا مضمون اس آیت سے شروع ہوا تھا فَإِذَا قَضَيْتُمُ منَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ آبَاءَكُمْ کہ ان عبادات کی ادائیگی کے بعد تمہارا ذ کر الہی کا کام ختم نہیں ہو جا تا بلکہ بڑھ جاتا ہے اور اس سلسلہ میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو دنیوی زندگی میں اپنی بڑائی اور اپنی حکومت کی طلب میں رہتے ہیں اس کے مقابل میں وہ لوگ ہیں جن کا آج کی آیت میں ذکر ہے کہ انسانوں میں وہ اعلیٰ درجہ کے لوگ ہیں جو خدا کی رضاء میں کھوئے جاتے ہیں اور اللہ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کو ہی بیچ ڈالتے ہیں وہ اپنے آپ کو فروخت کر دیتا ہے اس کا سکھ اس کا سکھ اس کا آرام اس کی کوئی خواہش اپنے نفس کے لئے نہیں ہوتی۔اس آیت کی جو نہایت لطیف تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اس کا کچھ حصہ درج ہے ، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔“انسانوں میں سے وہ اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں۔وہ اپنی جان پہنچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے ایسا ہی وہ شخص جو روحانی حالت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان کو بیچ دیتا ہے اور جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے اور اپنے تمام وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو طاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے۔" وو اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 385)