365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 83 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 83

درس القرآن 83 رس القرآن نمبر 68 ورسوور وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيطِيْنُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَنَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلَكِنَّ الشَّيطِيْنَ كَفَرُوا يُعَلِمُونَ النَّاسَ السّحر ( البقرة : 103) اس آیت سے بنی اسرائیل کی رسول کریم صلی اللی علی کی تکفیر و تکذیب اور بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کے ایک اور پہلو کا ذکر شروع ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بنی اسرائیل نے آپ صلی ا یکم کے خلاف صرف زبانی تکفیر و تکذیب کا سلسلہ جاری نہیں کیا بلکہ عملی طور پر ایسی کاروائیاں آپ صلی للی یکم کی مخالفت میں شروع کر دی ہوئی ہیں اور جس طرح بنی اسرائیل کے ایک طبقہ نے خدا کے ایک سچے اور زبر دست نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کے خلاف کاروائیاں شروع کی تھیں آج کے بنی اسرائیل رسول اللہ صلی الل علم کے خلاف وہی کاروائیاں کر رہے ہیں، فرماتا ہے وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيطِین اور یہ پیروی کرتے ہیں ان باتوں کی جو شیطان جیسے شرارتی لوگ پڑھتے اور کرتے تھے عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَنَ حضرت سلیمان کی حکومت کے خلاف وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ سلیمان نے تو ہر گز کفر نہیں کیا تھا مگر یہ لوگ حضرت سلیمان پر شرک اور کفر کا جھوٹا الزام لگاتے تھے اور آج تک یہ الزام محرف شدہ بائبل میں لکھا ہوا موجود ہے وَلكِنَّ الشَّيطِينَ كَفَرُوا حقیقت میں یہ شرارتی لوگ ہی توحید اور سچے دین کا انکار کرتے ہیں يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السّحْرَ اور لوگوں کو نہایت باریک پر اسرار باتیں دور سکھاتے ہیں۔پھر فرماتا ہے وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ یہ بنی اسرائیل ان سر گرمیوں کی پیروی کر رہے ہیں جس کی تعلیم جو دو فرشتہ نما وجودوں ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی تھی۔یہاں اس زمانہ کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل قید کر کے فلسطین سے عراق میں غلام بنا کر لائے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اندرونی طور پر ہاروت اور ماروت کی سرگرمیوں کے ذریعہ اور بیرونی طور پر حضرت ذوالقرنین خورس کے ذریعہ ان بنی اسرائیل کو آزاد کر وایا اور وہ واپس یروشلم اور فلسطین جانے کے قابل ہوئے۔رسول کریم صلی ال نیم کے خلاف یہودی وہ تدابیر استعمال کر رہے ہیں جو بابل میں اندرونی اور بیرونی طور پر کی گئی تھیں اندرونی طور پر