365 دن (حصہ اول) — Page 54
درس القرآن 54 رس القرآن نمبر 44 وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَ وَالسّلوى كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَ وور مَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (البقرة:58) بنی اسرائیل کو توجہ دلانے اور ان کے اعتراض کا جواب دینے کے لئے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کی سرکشیوں کا مضمون چل رہا ہے مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل کو صحرائے سیناء میں لمبا عرصہ چکر لگانے پڑے اس دور میں بادلوں کے قدرتی نظام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سائے کی سہولت عطا فرمائی اور کھانے کے لئے من عطا کیا یعنی ایسی کھانے کی چیزیں ان کے لئے مہیا کیں جن پر زمینداروں کی طرح خاص محنت اور تردد نہیں کرنا پڑتا تھا نیز سلویٰ کا انتظام کیا یعنی ایسے پرندے مہیا کئے جو گرمی کی ابتداء میں افریقہ سے یورپ کی طرف روانہ ہوتے تھے اور لاکھوں کی تعداد میں یورپ کے پہاڑوں کو عبور کرنے کی غرض سے صحرائے سیناء کے میدانی علاقہ میں آرام کے لئے اترتے تھے اور سردیوں کے شروع میں یورپ کے پہاڑوں کی سردی سے بچنے کے لئے واپس افریقہ کا رخ کرتے۔بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَام ہم نے بادلوں کے ذریعہ تم پر سایہ کیا وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَ السلوى اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ہے اور تمہیں ارشاد کیا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں ان کو کھاؤ وَمَا ظَلَمُونَا اور ان سرکشیوں اور ناشکریوں کے ذریعے تم نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وَلكِن كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرتے تھے۔