365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 44 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 44

درس القرآن درس القرآن نمبر 37 44 وَامِنُوا بِمَا اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بِأَيْتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَايَايَ فَاتَّقُونِ (البقرة: 42،43) اس سوال کو حل کرنے کے بعد کہ کیا آنحضرت صلی الی یوم کی بعثت اور قرآن شریف کا اترنا کوئی عجوبہ نہیں بلکہ بنی اسرائیل کو جو نعمت دی گئی تھی اس کا بلند تر قدم ہے اور اب بنی اسرائیل کا فرض ہے کہ جو عہد ان سے آپ کی بعثت اور قرآن مجید کے نزول کے بارہ میں لیا گیا تھا اس عہد کو پورا کریں فرماتا ہے وَامِنُوا بِمَا اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ کہ جو کلام میں نے اتارا ہے اس پر ایمان لاؤ کیونکہ اس کلام کے ذریعہ وہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے جو اس کلام میں تھی جو تمہارے پاس ہے گو یا اگر تم قرآن کا انکار کرتے ہو تو اس کلام کا بھی انکار کرنے والے ہو گے جو تمہارے پاس ہے وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِر ہے اور اس کا انکار کرنے میں پہل نہ کرو اور نہ ہی اس کے اول نمبر کے کافر بنو۔ورنہ دوسرے اس سے متاثر ہوں گے۔تمہارے انکار کی وجہ کوئی دینی اور روحانی وجہ نہیں بلکہ دنیا داری ہے وَلا تَشْتَرُوا بِأَيْتِي ثَمَنًا قَلِیلا اس دنیا کی تھوڑی سی قیمت کی خاطر تم یہ انکار کر رہے ہو تم میری آیات کے بدلے دنیا کا تھوڑا سا مول نہ لو۔دنیا کا لالچ نہ کرو، نہ ہی دنیا سے ڈرو و ايَايَ فَاتَّقُونِ صرف مجھ سے ڈرو اور میری سزا اور عذاب سے بچو۔پھر فرمایا وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ انْتُمْ تَعْلَمُونَ بے شک تمہارے پاس کچھ سچ ہے مگر تم اس سچ کو جھوٹ کے ساتھ نہ ملاؤ اور اس طرح سچ کو نہ چھپاؤ وَ اَنْتُم تعلمون اور یاد رکھو کہ تم یہ گناہ جانتے بوجھتے ، علم رکھتے ہوئے کر رہے ہو۔حضرت ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے والد اور چا یہودی تھے۔حضرت صفیہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ میرے چا مجھ سے بہت پیار کرتے تھے ایک دن وہ ہمارے گھر آئے تو میری طرف انہوں نے توجہ نہ کی۔میں کچھ افسردہ ہو گئی تو میں نے اپنے چچا اور اپنے باپ کی گفتگو سنی میرے باپ نے میرے چچا سے پوچھا کہ تم رسول اللہ صلی یکم سے ملنے گئے تھے ؟ جواب دیا۔گیا تھا۔پوچھا کیا وہ نبی ہیں اور