365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 15 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 15

درس القرآن 15 رس القرآن نمبر 12 اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمانے کے بعد کہ قرآن شریف جیسی اعلیٰ اور کامل کتاب سے متقی ہدایت پاتے ہیں کچھ لوگ وہ ہیں جو اس کا انکار کرتے ہیں اور آنحضرت صلی ا ہم جیسے اعلیٰ درجہ کے نذیر کا سمجھانا اور نہ سمجھانا، ہوشیار کرنا یا نہ کرنا ان کے لئے برابر ہے اور وہ ضد اور تعصب کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔اس کے بعد فرماتا ہے خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَبْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ( البقرة : 8) کہ ان کی ضد اور انکار کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے ان کا فرض تھا کہ اتنی عظیم الشان کتاب پر غور کرتے ، اپنے دل میں سوچتے، رسول اکرم صلی ا لی لی جیسے نبی کے سمجھانے اور ڈرانے پر ہوش میں آتے مگر ان کے دلوں نے بجائے سمجھنے کے انکار کی طرف جلدی کی۔اس لئے ان کے اس فعل کے جواب میں اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کا فرض تھا کہ اپنے کانوں سے کام لیتے اور خدا کے کلام کو توجہ سے سنتے ، خدا کے نبی صلی علم کی باتوں کو توجہ سے سنتے ، مگر انہوں نے اپنے کانوں سے بھی کام نہ لیا، اس لئے وَ عَلى سَمْعِهِمْ ان کے کانوں پر خدا کی مہر لگ گئی ، پھر اگر انہوں نے اپنے دل سے کام نہیں لیا، اپنے کانوں سے نہیں سنا، تو کم از کم اپنی آنکھوں سے وہ نشان دیکھے جو قرآن شریف کی سچائی اور نبی صلی علیکم کی صداقت کے لئے روز ظاہر ہو رہے ہیں۔مگر انہوں نے اپنی آنکھوں سے بھی کام نہ لیا گویا وَ عَلَى ابْصَارِهِمْ غِشَاو ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا معرکہ ہے جو انہوں نے مارا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمُ (البقرة:8) کہ ان کے لئے ایک بہت بڑا عذاب ہے۔ان کی جو کوششیں قرآن شریف کے خلاف اور نبی کریم صلی علیم کے خلاف ہیں وہ اس دنیا میں بھی ناکام ہوں گی اور اگلے جہاں میں بھی اپنی اصلاح کے لئے وہ دکھ اٹھائیں گے اور اس عذاب سے بڑا عذاب کیا ہو سکتا ہے کہ کسی کو دنیا میں سزا ملے اور موت کے بعد دوبارہ زندگی میں بھی وہ دکھ اٹھائے۔