365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 14 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 14

درس القرآن 14 رس القرآن نمبر 11 إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرة:7) يه بتانے کے بعد قرآن شریف ایک کامل کتاب ہے جس میں کوئی شک اور شبہ والی بات نہیں اور یہ کتاب متقیوں کو ہدایت دیتی ہے اور یہ بتانے کے بعد کہ متقی کون ہوتے ہیں اور ان میں کیا کیا باتیں پائی جاتی ہیں اب یہ مضمون اس آیت سے شروع ہو تا ہے کہ متقیوں کے مقابلہ میں جو قرآن مجید سے ہدایت پاتے ہیں وہ کون لوگ ہیں اور کیسے لوگ ہیں جو اس کتاب کو نہیں مانتے اور ان سے کیا سلوک کیا جائے گا۔فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وہ لوگ جنہوں نے خدا کی اس کتاب کا اور اس کے رسول کا جس پر وہ کتاب اتاری گئی انکار کرتے ہیں سَوَاء عَلَيْهِمْ وَاَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُم ان پر برابر ہے تم ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ ہوشیار کر دیا کرو یانہ کر دیا کرو اس انکار کی غلطی اور اس کا جو برا نتیجہ نکل سکتا ہے اس بارے میں ان کو تنبیہ کرو یا نہ کرو۔لا يُؤْمِنُونَ وہ ایمان نہیں لاتے۔مطلب یہ ہے کہ کافر دراصل وہ ہے جو اے نبی صلی یکم تمہارے ڈرانے یا نہ ڈرانے ، تمہارے سمجھانے یا نہ سمجھانے کو برابر سمجھتے ہیں۔وہ نہ نصیحت اور وعظ اگر ہو تب بھی اس کی پروا نہیں کرتے اور اگر نہ ہو تب بھی اس کی پروا نہیں کرتے، وہ ایمان لانے والے نہیں۔اس آیت میں خداوند کریم نے یہ سبق دیا ہے کہ اللہ کی طرف سے اگر کوئی کتاب آئے یا کوئی ڈرانے والا بھیجا جائے تو اس کا فوراً انکار کرنا بہت ہی غلط کام ہے کتاب کو پڑھو نذیر یعنی ڈرانے اور ہوشیار کرنے والے کی بات سنو، دیانت داری سے اس پر غور کرو، کتاب کے مضامین کو دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے ، نذیر کی زندگی، اس کے اخلاق، اس کے حالات کا مشاہدہ کر و اور دیانت داری کے ساتھ اس کا مشاہدہ کرو پھر جو بات سچ ثابت ہو اس کو مان لو ، اگر غلط ثابت ہو تو پھر اس کا انکار کر سکتے ہو۔