365 دن (حصہ اول) — Page 9
درس القرآن 9 درس القرآن نمبر 6 اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّانِينَ (الفاتحہ : 7 6 ) ( آمین) ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ان کا راستہ نہیں جن پر غضب ہوا اور نہ گمر اہوں کا۔انسان اگر اپنے نفس پر غور کرے تو وہ دیکھے گا کہ بے شک اس میں بہت ساری اچھی یا بری باتیں اور طاقتیں پائی جاتی ہیں جن کو وہ اپنی زندگی میں اپنے اچھے یا برے کاموں کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہیں اور اس کے تمام کاموں پر اچھایا برا اثر ڈالتی ہیں۔ایک چیز ہے انسان کسی چیز سے نفرت کرتا ہے ، اس کو ناپسند کرتا ہے ، اس سے بچنا چاہتا ہے، نہ یہ چاہتا ہے کہ ایسی چیز کے پاس جائے جو اسے ناپسند ہے اور نہ یہ چاہتا ہے کہ ایسی چیز اس کے پاس آئے جس کو وہ اچھا نہیں سمجھتا۔دوسری چیز ہے کسی چیز سے محبت، پیار اور پسند کرنا۔انسان چاہتا ہے کسی انسان کو ، کسی چیز کو، جس کو وہ اچھا سمجھتا ہے یا اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔سوچ کر دیکھ لیں کہ انسان کی ساری زندگی زیادہ تر انہی باتوں کے گرد چکر لگاتی ہے۔سورۃ الفاتحہ میں قرآن شریف نے جب سیدھے راستہ کی دعا سکھائی اور اچھا رستہ بتانے والا صرف اچھا راستہ نہیں بتاتا بلکہ رستہ کے خطروں اور ٹھوکروں کا بھی بتاتا ہے تا کہ انسان ان سے بچے اور اس آیت میں بتاتا ہے تم سے پہلے دو قوموں نے سیدھے راستہ کی تلاش میں ٹھوکر کھائی ایک تو یہودی قوم تھی جنہوں نے خدا کے نبی سے نفرت کی اور ان کی نافرمانی کی اس لئے خدا کا غضب ان پر اترا اور دوسری قوم عیسائی ہے جنہوں نے خدا کے سچے نبی اور مسیح سے محبت کی مگر اس محبت میں ان کو خدا بنا دیا۔یہودیوں نے نبیوں سے غلط نفرت کی اور عیسائیوں نے خدا کے نبی سے غلط محبت کی اور گمراہ ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں یہ دعا سکھائی کہ تم یہود کی طرح غلط نفرت کر کے خدا کی ناراضگی مول نہ لے لینا اور غلط محبت کر کے عیسائیوں کی طرح گمراہ نہ ہو جانا۔