365 دن (حصہ اول) — Page 124
124 درس حدیث درس حدیث نمبر 18 ہمارے دین اسلام کے دو حصے ہیں ایک حصہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں جو حکم اللہ نے دیا ہے اس کی اطاعت کریں اس سے محبت کریں اس کی نعمتوں کی جو اس نے ہمیں عطا کی ہیں شکر ادا کریں اس کو حقوق اللہ کی ادائیگی کہتے ہیں دوسرا حصہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی مخلوق پر شفقت کریں، ان پر رحم کریں، ان کی خدمت کریں اور ساری مخلوق میں سے خصوصاً انسانوں کے حقوق ادا کریں۔ہمارے نبی صلی الیم نے جہاں حقوق اللہ ادا کر نے پر خاص زور دیا ہے وہاں بندوں کے حقوق ادا کرنے کی بھی خاص تاکید کی ہے۔آپ صلی اللہ ہم نے ایک دفعہ فرمایا حضرت براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ آمَرَنَا رَسُولُ اللهِ بِسبع کہ ہمارے نبی صلی الم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ کہ آپ نے ہمیں حکم فرمایا کہ اگر ہم میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی تیمار داری کریں وَ اتَّبَاعِ الْجَنَازَةِ اگر کوئی فوت ہو جائے تو ہم جنازہ کے ساتھ جائیں وَ تَشْمِيْتِ الْعَاطِيسِ اور اگر کوئی چھینک لیتا ہے تو ہم اس کو يَرْحَمُكَ الله یعنی اللہ تم پر رحم کرے کی دعا دیں وَاجَابَةِ الدَّا عِنی اور اگر کوئی ہمیں بلاتا ہے یا ہمیں دعوت دیتا ہے تو ہم اس کے بلاوے پر لبیک کہیں اور اس کی دعوت کو قبول کریں و افشاءِ السَّلَامِ اور حضور صلی علیم نے ہمیں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم سلام کو رواج دیں، سے ملیں، کسی کے پاس سے گزریں، کسی کے ہاں جائیں تو سلام کہیں وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ اور بر ظلم ہو رہا ہو ، جس کی حق تلفی ہو رہی ہو اس کی مدد کریں اور ساتویں بات یہ ہے کہ کوئی قسم کھاتا ہے اور ظاہر ہے کہ قسم خدا کا نام لے کر کھائی جاتی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ کوشش کریں کہ اس شخص کی قسم جھوٹی نہ نکلے بلکہ جو عہد یا وعدہ اس نے قسم کھا کر کیا ہو وہ بس: 22 وہ پورا ہو جائے۔( بخاری کتاب الأشربة باب آنية الفضة 5635) اب دیکھیں کس طرح ہمارے نبی صلی علیم نے ہمیں ان سات باتوں کا حکم دے کر ایک اچھے گھر ، ایک اچھی سوسائٹی کی تعمیر فرمائی ہے اور جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کو سلام کریں، مظلوم کی مدد کریں، بیماروں کی عیادت کریں، خدانخواستہ کوئی فوت ہو جائے تو اس کے جنازہ وغیرہ میں حاضر ہوں، ایک شخص جو ہمیں اپنے کام کے لئے بلا رہا ہے اس کی آواز پر توجہ کریں تو وہ معاشرہ کتنا اچھا اور پر امن ہو گا۔