365 دن (حصہ اول) — Page 115
درس حدیث ސލ نمبر 10 115 ہمارے نبی صلی الم نے ایک لڑکے کو جو آپ کے گھر میں رہتا تھا اور آپ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا ارشاد فرمایا يَا غُلَامُ سَةِ اللهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ کہ اے لڑکے ! اللہ کا نام لو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔( بخاری کتاب الأطعمة باب التسمية على الطعام والأكل باليمين 5376) ہمارے نبی صلی ا م ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے جو نہ صرف یہ کہ اللہ پر سچا ایمان نہ رکھتی تھی اور خدا کا نام تو لیتی تھی مگر بچے خدا سے غافل تھی بلکہ عام اچھے اخلاق جو مذہب کے نہ ماننے والوں میں بھی پائے جاتے ہیں سے محروم تھی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اٹھنے، بیٹھنے، چلنے ، پھرنے، کھانے، پینے، سونے، جاگنے کے آداب بھی ان میں نہیں پائے جاتے تھے۔ہمارے نبی صلی ا ہم اس قوم کو نہ صرف روزمرہ کی زندگی کے آداب سکھائے بلکہ ان کو اچھے اخلاق کا سبق بھی دیا۔صبر ، شفقت، شجاعت، تعلیم ، حلم، ماں باپ کی خدمت اور اطاعت اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک، غرض تمام قسم کے اخلاق کی تعلیم دی اور اس کے اوپر ان کے دلوں میں اپنے خالق و مالک رب کے ساتھ پیار کرنا سکھایا۔یہ حدیث جو ہم نے آج پڑھی ہے اس میں حضور نے کھانے کے تین ابتدائی آداب سکھائے ہیں۔کھانا اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور بہت بڑی نعمت ہے اس لئے کھانا اللہ کے نام سے شروع کرنا چاہئے۔اللہ کے فضل کے بغیر وہی کھانا جو بظاہر ایک نعمت ہے تکلیف اور بیماری کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔دوسری بات جو آپ نے فرمائی یہ ہے کہ کھانا دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے کیونکہ عام طور پر انسان ایسے کام جس سے ہاتھ گندہ ہو بائیں ہاتھ سے کرتا ہے اور ایسے کام جو صاف ہوں دائیں ہاتھ سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ کھانا دائیں ہاتھ سے کھانا چاہئے۔تیسری بات جو آپ نے فرمائی کہ کھانا اپنے سامنے سے کھانا چاہئے اس طرح کھانا کھانا جس سے پلیٹ یا بر تن میں گندیا بے ترتیبی پیدا ہو درست نہیں، بلکہ بد تمیزی ہے۔دیکھنے والے کو بھی کراہت آتی ہے اور ساتھ کھانے والے کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔پس ہمارے نبی صلی علی کریم کا ارشاد ہے کہ اللہ کے نام سے کھانا شروع کرو۔دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور تمیز کے ساتھ اپنے سامنے سے کھاؤ۔